گرمی دم دبا کر بھاگی
آیا بارش کا موسم رم جھم رم جھم چھم چھم چھم گرمی دم دبا کر بھاگی گونجی بوندوں کی سرگم سختی جب سہہ جاتے ہیں تب ہی راحت پاتے ہیں
آیا بارش کا موسم رم جھم رم جھم چھم چھم چھم گرمی دم دبا کر بھاگی گونجی بوندوں کی سرگم سختی جب سہہ جاتے ہیں تب ہی راحت پاتے ہیں
ہر سیلانی یہ کہتا ہے شہر انوکھا کلکتہ ہے بھارت کا ہر صوبے والا اس کے دامن میں بستا ہے اس کے فٹ پاتھوں پر ہر دم لوگوں کا ریلا چلتا ہے لمبی چوڑی سب سڑکوں پر کاروں کا دریا بہتا ہے نئی ٹراموں کا اب چلنا آنکھوں کو اچھا لگتا ہے دو دو انساں ہیں رکشے پر بار یہ اک انساں سہتا ہے ایک ہے میٹرو ...
ہم کو راحت دینے والی ہر دکھ خود سہہ لینے والی ہر حالت میں ماں ٹھہری ہے گھر کی نیا کھینے والی کرتے رہیں ہم ماں کی خدمت ان کے پاؤں تلے ہے جنت
اے وطن اے وطن اے زمین وطن ہم ہیں تارے ترے تو ہمارا گگن تیری شہرت زمانے میں صدیوں سے ہے تو وفا کے فسانے میں صدیوں سے ہے تو ہمیشہ رہے یوں ہی رشک زمن اے وطن اے وطن اے زمین وطن ہم ہیں تارے ترے تو ہمارا گگن قابل رشک ہے تیرا نام و نمود اے وطن در حقیقت ہے تیرا وجود شان گنگ و جمن فخر کوہ و ...
بھولی بھالی ہے کوئل بڑی نرالی ہے کوئل صورت سے کیا لینا جی مانا کالی ہے کوئل اس کے تو بس سنیے گیت سب کا دل لیتی ہے جیت
اک پیارا معصوم سا بچہ من کا سچا عقل کا کچا وہ فرماں بردار بہت تھا نیک اور خوش گفتار بہت تھا آنکھوں میں اک خواب سجائے اس نے کچھ پیسے تھے بچائے اپنی دھن میں کھوئے کھوئے سارے پیسے کھیت میں بوئے ماجرا جب یہ باپ نے دیکھا اپنے بیٹے سے یہ پوچھا کھیت میں کیوں پیسوں کو چھپایا بیٹے نے پھر ...
پیاری پیاری میری دادی مجھ کو کہتی ہے شہزادی میرے سو نخرے سہتی ہے میری فکر اسے رہتی ہے جو بھی مانگو سو دیتی ہے ایک نہیں وہ دو دیتی ہے مجھے منا کر خوش ہوتی ہے ورنہ غصے میں روتی ہے مجھے کوئی جو مارے چٹ سے ڈانٹ اسے دیتی ہے جھٹ سے مجھ سے دور نہیں رہ سکتی وہ یہ بات نہیں سہہ سکتی کرم ...
کیسے کیسے اونچے پیڑ ہرے بھرے پھل لادے پیڑ ثمر نہیں جس پر وہ بھی سب کو سایہ بانٹے پیڑ کاش کہ سارے انساں بھی پیڑوں جیسے ہو جاتے
سنڈے کے دن ہم سب کھیلیں لطف ذرا چھٹی کا لے لیں ڈولی لاؤ گھوڑا لاؤ گڈا لاؤ گڑیا لاؤ ان دونوں کی کر دیں شادی آ جائیں باراتی ہادی کچھ دعوت نامے چھپوا لو کچھ مہمانوں کو بلوا لو گڈے کا صحرا لے آؤ گڑئیے کا گجرا لے آؤ گڈے کا صافہ بھی لانا گڑئیے کا لہنگا بھی لانا ہلدی پیسے گی نذرانہ مہندی ...
دکھ سے پرے یہ پنچھی ہم سے بھلے یہ پنچھی آکاش چھو رہے ہیں چھوٹے بڑے یہ پنچھی حاصل جو پنکھ ہوتے ہم بھی اڑان بھرتے