شاعری

غم ہجراں سے ذرا یوں بھی نبھائی جائے

غم ہجراں سے ذرا یوں بھی نبھائی جائے محفل غیر سہی آج سجائی جائے اختلافات کی بنیاد ہے گہری لیکن اس پہ نفرت کی نہ دیوار اٹھائی جائے پہلے منزل کا ہم اپنی تو تعین کر لیں پھر زمانے کو کوئی راہ دکھائی جائے مے کے بارے میں خیالات بدل جائیں گے حضرت شیخ کو تھوڑی سی پلائی جائے سب کے ...

مزید پڑھیے

کیوں وہ میرا مرکز افکار تھا

کیوں وہ میرا مرکز افکار تھا جس کے ہونے سے مجھے انکار تھا یوں تو مشکل تھی بہت تیری تلاش خود کو اپنا اور بھی دشوار تھا اس کے حصے میں در و دیوار تھے میرا حصہ سایۂ دیوار تھا رفتہ رفتہ سب کے جیسا ہو گیا پہلے میں بھی صاحب کردار تھا دوریوں نے قربتیں بخشیں ہمیں ملنا جلنا باعث تکرار ...

مزید پڑھیے

مل کے بیٹھیں تو ہم کہیں پہلے

مل کے بیٹھیں تو ہم کہیں پہلے بانٹ لیتے ہیں کیوں زمیں پہلے ہوگا تیرا بھی اعتبار مجھے کر لوں اپنا میں گر یقیں پہلے کیوں کسی در پہ آسماں جھکتا گر نہ جھکتی مری جبیں پہلے دل میں شاید ابھی بھی ہے موجود آؤ ڈھونڈیں اسے یہیں پہلے کب یہ سنتے ہیں داستاں پوری بول اٹھتے ہیں نکتہ چیں ...

مزید پڑھیے

یہ دل مانگے مور

پچھلے دو تین سال سے اکثر گھر میں اک اشتہار دیکھتا ہوں جس میں لکھا ہے یہ جو ہیں تین لفظ انگریزی آج تک یہ سمجھ میں آ نہ سکا ہیں خدا کے لئے کہ میرے لئے میں تو مفہوم ان کا پا نہ سکا کیا خدا دیکھتا ہے ذی ٹی وی روز جب رات گھر پہنچتا ہوں سونی جیبوں کو میں ٹٹولتا ہوں میری بیوی کی آنکھیں ...

مزید پڑھیے

چوتھی کا جوڑا

مکڑی نے کہانی کا بنا ہے جالا پھر آئے گا شاید کوئی دل لوٹنے والا جتنے بھی مدھر خواب دکھائے کوئی اس کو عورت ہی کو پینا ہے مگر زہر کا پیالا

مزید پڑھیے

ہندوستان چھوڑ دو

جب روح پریشان ہے تن چھوڑ کے جائے اچھا نہیں لگتا تو وطن چھوڑ کے جائے کس رشتے کو خوشبوؤں کے رومال میں باندھیں ہر رشتہ اگر ایک چبھن چھوڑ کے جائے

مزید پڑھیے

معصومہ

عزت کے لئے اپنی یہ سمجھوتے کیے جا آنسو جو امڈ آتے ہیں آنکھوں میں پیے جا اللہ تجھے بھوکی نگاہوں سے بچائے اے بیسوا تو اپنے گریباں کو سیے جا

مزید پڑھیے

گرم ہوا

نفرت کی ہی اک فصل یہاں پھلتی ہے سچ یہ ہے سیاست ہی ہمیں چھلتی ہے دفتر تو سب اندر سے بہت ہیں ٹھنڈے سڑکوں پہ مگر گرم ہوا چلتی ہے

مزید پڑھیے

ٹیڑھی لکیر

پتھر پہ چلے کوئی کنکھجورا جیسے عورت کو ملے مرد ادھورا جیسے عصمت کی کہانیوں سے یہ چلتا ہے پتا انسان ابھی تک نہیں پورا جیسے

مزید پڑھیے

لحاف

یہ داغ آتما کا جو بستر سے ملا ہے شیشے کو یہ صدمہ کسی پتھر سے ملا ہے کیا دیکھ لیا میں نے لحاف میں اے ہے افسانے کا عنواں اسی چادر سے ملا ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 4195 سے 5858