شاعری

اے مری جان تجھے اور بدلنا ہوگا

اے مری جان تجھے اور بدلنا ہوگا پھر مرے ساتھ کڑی دھوپ میں چلنا ہوگا اپنے پیروں پہ ابھی قرض سفر باقی ہے حد امکان سے آگے بھی نکلنا ہوگا اس سے پہلے کہ ڈھلے رات نیا دن نکلے ترے خوابوں کو مرے خواب میں ڈھلنا ہوگا انقلابات کا آغاز بھی ہوگا لیکن لے کے پرچم سر بازار نکلنا ہوگا کامیابی ...

مزید پڑھیے

کوئی کعبہ نہ کلیسا نہ صنم میرا ہے

کوئی کعبہ نہ کلیسا نہ صنم میرا ہے اک نئے خواب کی دھرتی پہ قدم میرا ہے ساری دنیا سے ہمہ وقت جڑا رہتا ہوں رابطہ خود سے مگر آج بھی کم میرا ہے دل کو احساس کے اس موڑ پہ لائی ہے حیات اب نہ میری ہے خوشی اور نہ غم میرا ہے اب بھی ڈرتا ہوں ہر اک بات میں لکھنے سے فروغؔ تم یہ کہتے ہو کہ آزاد ...

مزید پڑھیے

میرے چہرے میں کوئی اور ہی چہرہ دیکھے

میرے چہرے میں کوئی اور ہی چہرہ دیکھے وقت ماتھے کی لکیروں میں وہ ٹھہرا دیکھے سب کو دیتی ہے الگ رنگ یہ تصویر حیات سبز گلشن تو کوئی دھول کا صحرا دیکھے اس کے ہاتھوں میں جو رہتی ہے وہ تعبیر رہے کیوں مگر دے کے مرے خواب پہ پہرا دیکھے اس کو احساس کی نایاب گہر ملتے ہیں ڈوب کر بحر تخیل ...

مزید پڑھیے

پچھلے کسی سفر کا ستارہ نہ ڈھونڈ لے

پچھلے کسی سفر کا ستارہ نہ ڈھونڈ لے پھر سے کہیں وہ ساتھ ہمارا نہ ڈھونڈ لے جس کو کہ ڈھونڈھتی ہیں سمندر کی وسعتیں دیکھو کہیں وہ شخص کنارہ نہ ڈھونڈ لے منزل ہے اس کے نام بس اتنا رہے خیال رستے میں نقش پا وہ ہمارا نہ ڈھونڈ لے مانی تھی ایک بار جو دل نے خرد کی بات ویسا یہ اعتدال دوبارہ ...

مزید پڑھیے

ایسا لگتا ہے سمجھ دار ہے دنیا ساری

ایسا لگتا ہے سمجھ دار ہے دنیا ساری میں ہوں اس پار تو اس پار ہے دنیا ساری اس نئی دوڑ میں آگے ہے نہ پیچھے کوئی دام عجلت میں گرفتار ہے دنیا ساری دوستی اور دکھاوے کی محبت کرنا سب کا شیوہ ہے اداکار ہے دنیا ساری قافلے دل کے سر عام ہیں لوٹے جس نے اسی رہزن کی طلب گار ہے دنیا ساری آپ ...

مزید پڑھیے

کہتا رہے زمانہ گنہ گار زندگی

کہتا رہے زمانہ گنہ گار زندگی کچھ لوگ جی رہے ہیں مزے دار زندگی کردار اپنا اپنا نبھاتے ہیں سب یہاں سمجھو نہ تم کسی کی ہے بیکار زندگی اک وقفۂ اجل بھی تو آتا ہے درمیاں چلتی نہیں کسی کی لگاتار زندگی آگے نکل چکے تھے ہم اپنے وجود سے پھر بھی ہوئی نہ کم تری رفتار زندگی رستے کئی حسین ...

مزید پڑھیے

ہر کسی کی ہے زبانی دوستی

ہر کسی کی ہے زبانی دوستی کیا کسی کی آزمانی دوستی تھے مسافر دو الگ رستوں کے ہم ہو گئی بس ناگہانی دوستی ڈھونڈھتا ہے ہر رفاقت میں نئی دل ہمیشہ اک پرانی دوستی دفن ہے سینے میں میرے آج بھی اس کی میری آنجہانی دوستی دوستوں کو دل دکھانا آ گیا آ گئی ہم کو نبھانی دوستی کچھ تو تیری ...

مزید پڑھیے

دل کے اندر اک ذرا سی بے کلی ہے آج بھی

دل کے اندر اک ذرا سی بے کلی ہے آج بھی جو مرے افکار میں رس گھولتی ہے آج بھی یوں تو وہ دیوار بن کے آ گیا ہے درمیاں میری اپنے آپ سے کچھ دوستی ہے آج بھی پتھروں پر چل کے سب نے پاؤں زخمی کر لئے جبکہ اس کے در کا رستہ مخملی ہے آج بھی رخ ہواؤں کا بدلنا جانتے ہیں لوگ جو بس انہیں کے ہر دیے ...

مزید پڑھیے

کوئی کعبہ نہ کلیسا نہ صنم میرا ہے

کوئی کعبہ نہ کلیسا نہ صنم میرا ہے اک نئے خواب کی دھرتی پہ قدم میرا ہے ساری دنیا سے ہمہ وقت جڑا رہتا ہوں رابطہ خود سے مگر آج بھی کم میرا ہے دل کو احساس کے اس موڑ پہ لائی ہے حیات اب نہ میری ہے خوشی اور نہ غم میرا ہے اب بھی ڈرتا ہوں ہر اک بات میں لکھنے سے فروغؔ تم یہ کہتے ہو کہ آزاد ...

مزید پڑھیے

خواہشوں کا امتحاں ہونے تو دو

خواہشوں کا امتحاں ہونے تو دو فاصلے کچھ درمیاں ہونے تو دو مے کشی بھی با وضو ہوگی یہاں شیخ کو پیر مغاں ہونے تو دو منزل مقصود سے آئی صدا دل کو میر کارواں ہونے تو دو خامشی آواز بن جائے گی یوں بے زبانی کو زباں ہونے تو دو کیا نہیں ممکن ہے کچھ صیاد سے اس کو اپنا باغباں ہونے تو دو

مزید پڑھیے
صفحہ 4194 سے 5858