شاعری

ہر گھڑی قیامت تھی یہ نہ پوچھ کب گزری

ہر گھڑی قیامت تھی یہ نہ پوچھ کب گزری بس یہی غنیمت ہے تیرے بعد شب گزری کنج غم میں اک گل بھی لکھ نہیں سکا پورا اس بلا کی تیزی سے صرصر طرب گزری تیرے غم کی خوشبو سے جسم و جاں مہک اٹھے سانس کی ہوا جب بھی چھو کے میرے لب گزری ایک ساتھ رہ کر بھی دور ہی رہے ہم تم دھوپ اور چھاؤں کی دوستی عجب ...

مزید پڑھیے

اب قابو میں دل کیوں آئے اب آنکھوں میں دم کیوں ٹھہرے

اب قابو میں دل کیوں آئے اب آنکھوں میں دم کیوں ٹھہرے جس بستی میں وو رہتا تھا اس بستی میں ہم کیوں ٹھہرے جو رس اور بو سے عاری ہو جس پھول کی دھوپ سے یاری ہو اس پھول پہ بھنورا کیوں ڈولے اس پھول پہ شبنم کیوں ٹھہرے کیوں وید حکیم بدلتے ہو کیوں کڑھتے ہو کیوں جلتے ہو رسنا ہی مقدر ہو جس کا ...

مزید پڑھیے

صحرا میں گھٹا کا منتظر ہوں

صحرا میں گھٹا کا منتظر ہوں پھر اس کی وفا کا منتظر ہوں اک بار نہ جس نے مڑ کے دیکھا اس جان صبا کا منتظر ہوں بیٹھا ہوں درون‌‌ خانۂ غم سیلاب بلا کا منتظر ہوں جان آب بقا کھوج میں ہے میں موج فنا کا منتظر ہوں کھل جاؤں گا اپنے آپ سے میں تحسین صبا کا منتظر ہوں اس دور میں خواہش طرب ...

مزید پڑھیے

خود کو پانے کی طلب میں آرزو اس کی بھی تھی

خود کو پانے کی طلب میں آرزو اس کی بھی تھی میں جو مل جاتا تو اس میں آبرو اس کی بھی تھی زندگی اک دوسرے کو ڈھونڈنے میں کٹ گئی جستجو میری بھی دشمن تھی عدو اس کی بھی تھی میری باتوں میں بھی تلخی تھی سم تنہائی کی زہر تنہائی میں ڈوبی گفتگو اس کی بھی تھی وہ گیا تو کروٹیں لے لے کے پہلو تھک ...

مزید پڑھیے

یہ بھی اپنی خواہش ہے

چاندنی رات کے آئینے میں تم دیکھو جب اپنی صورت ہم بھی دیکھ سکیں یہ منظر یہی تو اپنی خواہش ہے پھول کہیں جو سرگوشی میں سارے بھید تمہارے تن کے ہم بھی سن پائیں یہ حکایت یہ بھی اپنی خواہش ہے

مزید پڑھیے

گر ہمارے ہونے سے

گر ہمارے ہونے سے اس اداس بستی میں کوئی دل بہل جائے تشنہ لب زمینوں پر گر ہمارے خوں سے بھی اک گلاب کھل جائے ہم کو اپنے ہونے کا کچھ سراغ مل جائے

مزید پڑھیے

موت حیات کے شجر کا پھل ہے

موت حیات کے شجر کا پھل ہے اسے بھی چکھ کر دیکھو بہت کنارے دیکھ چکے اب ندی سے مل کر دیکھو خاک پہ اپنی تدبیروں سے نقش بنائے کیا کیا بہت چلے ان رستوں پر اب ہوا میں چل کر دیکھو اور بھی دشت ہیں اور بھی در ہیں اس بستی سے میلوں باہر ان جیسے ہی اور بھی گھر ہیں جن کے آنگن جلتے بجھتے ایسے ہی ...

مزید پڑھیے

رکھا نہیں غربت نے کسی اک کا بھرم بھی

رکھا نہیں غربت نے کسی اک کا بھرم بھی مے خانہ بھی ویراں ہے کلیسا بھی حرم بھی لوٹا ہے زمانے نے مرا بیش بھی کم بھی چھینا تھا تجھے چھین لیا ہے ترا غم بھی بے آب ہوا اب تو مرا دیدۂ نم بھی اے گردش عالم تو کسی موڑ پہ تھم بھی سن اے بت جاندار بت سیمبر اے سن توڑے نہ گئے ہم سے تو پتھر کے صنم ...

مزید پڑھیے

حیات وقف غم روزگار کیوں کرتے

حیات وقف غم روزگار کیوں کرتے میں سوچتا ہوں کہ وہ مجھ سے پیار کیوں کرتے نہ میری راہ میں تارے نہ میرے پاس چراغ وہ میرے ساتھ سفر اختیار کیوں کرتے نگاہ صرف بلاوا نہیں کچھ اور بھی ہے یہ جانتے تو ترا اعتبار کیوں کرتے غم حیات میں ہوتا اگر نہ ہاتھ ترا تو ہم خرد میں جنوں کو شمار کیوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 151 سے 5858