شاعری

پھر دکھ کیسا

جب تم اپنے ہو اور ہم اپنے ہیں پھر دکھ کیسا جب خاک سے اگے فسانے اور دلوں میں چھپے خزانے سب ایک ہیں پھر دکھ کیسا جو تم نے لگائے تن پر اور ہم نے سجائے دل میں سب زخم ہیں پھر دکھ کیسا جب پھولوں کے چہرے پر اور دل سے بہتے لہو میں سب رنگ ہے پھر دکھ کیسا جب ندی میں بہتا پانی اور آنکھ سے ...

مزید پڑھیے

خوابوں کا شہر

خوابوں میں ہمارے نخل اگے انہیں خاک ملی اشجار ہوئے کاغذ پہ تو رنگ تھے پھیکے سے پھولوں میں سجے گلزار ہوئے کبھی میدان اپنی راہ میں تھے کبھی کوہ پہ ہم نے خرام کیا انہیں منظروں میں تھا جو شہر بسا اسی شہر کو ہم نے امام کیا

مزید پڑھیے

شیرازہ

ریشمی ملبوس میں وہ گل رخوں کے قافلے اس رنگ و بو کے شیر میں ہم اجنبی دل سوختہ یادوں کے پیہم سلسلے محراب در سے جھانکتا ساقی کی چشم مست کا رک رک کے چلنا یاد ہے دنیائے بود و ہست کا اس داستاں کے باب میں وہ سیم تن شعلہ بجاں جن کے رخ تابندہ سے یہ گلستاں روشن ہوا جن کے لہو سے حرف بھی معنی کا ...

مزید پڑھیے

خواب آور ساعتیں

ایسا کیا دیکھا ہے ہم نے پردے میں خاموشی کے ایسا بھی کیا چھپا ہوا ہے اس گہری تاریکی میں وہ جو نہیں کوئی اور تو ہوگا ان لمحوں کی دوری میں

مزید پڑھیے

اپنے ہم وطنوں کے لیے

یہ جو باغ کھلائے ہم نے ان باغوں کی ہریالی میں جو پھول کھلے وہ سب کا ہے یہ جو شہر بسائے ہیں ہم نے ان شہروں کی خوشبو میں بسا جو سانس ملے وہ سب کا ہے ان باغوں کی ہریالی میں ان شہروں کے بازاروں میں اک خوابوں جیسی صبح ملے اک صبح ملے جو سب کی ہو اک خوشیوں جیسی شام ملے اک شام ملے جو سب کی ...

مزید پڑھیے

پیڑوں کی گھنی چھاؤں اور چیت کی حدت تھی

پیڑوں کی گھنی چھاؤں اور چیت کی حدت تھی اور ایسے بھٹکنے میں انجان سی لذت تھی ان کہنہ فصیلوں کو پہروں ہی تکے جانا ان خالی جھروکوں میں جیسے کوئی صورت تھی حیران سی نظروں میں اک شکل گریزاں سی اک سایۂ گزراں سے وہ کیسی محبت تھی ہر جنبش لب اس کی دستک تھی در دل پر ہر وقف خموشی میں تقریر ...

مزید پڑھیے

کاتتا ہوں رات بھر اپنے لہو کی دھار کو

کاتتا ہوں رات بھر اپنے لہو کی دھار کو کھینچتا ہوں اس طرح انکار سے اقرار کو بے قراری کچھ تو ہو وجہ تسلی کے لیے بھینچ کر رکھتا ہوں سینے سے فراق یار کو اپنی گستاخی پہ نادم ہوں مگر کیا خوب ہے دھوپ کی دیوار پر لکھنا شبیہ یار کو ایسے کٹتا ہے جگر ایسے لہو ہوتا ہے دل کیسے کیسے آزماتا ...

مزید پڑھیے

کبوتر

آسماں کی وسعتوں میں گھومتے تمام دن گزر گیا ستارہ ٹمٹما رہا تھا شب ڈھونڈتے رہے سبھی مرے لہو میں بہہ گیا کدھر گیا سنہری دھوپ چھاؤں میں نیلگوں فضاؤں میں اسے مری تلاش تھی میں اس کو ڈھونڈھتا رہا شام جب تھکے تھکے بکھرتے بال و پر لیے میں خاک کا امیں ہوا ستارہ میرے بخت کا زمیں کی کوکھ ...

مزید پڑھیے

بے چارہ سورج مکھی

ہم بہتے دریاؤں کی مانند نرم زمینوں کی تلاش میں ہیں جن کے ملائم بدن میں خوشبو ہو پر ان کی کوکھ میں بیج نہ ہو اس آس پر کہ بہتے دریا کا جب خاک سے وصل ہو بہتے بادلوں پر شام کا سفر جاری ہو مٹی اپنے مساموں میں آب سمو کر شانت ہو جائے پھر آسمان پر ستارے اور زمین پر نئے پھول پھولوں کے گرد ...

مزید پڑھیے

موت حیات کے شجر کا پھل ہے

موت حیات کے شجر کا پھل ہے اسے بھی چکھ کر دیکھو بہت کنارے دیکھ چکے اب ندی سے مل کر دیکھو خاک پہ اپنی تدبیروں سے نقش بنائے کیا کیا بہت چلے ان رستوں پر اب ہوا میں چل کر دیکھو اور بھی دشت ہیں اور بھی در ہیں اس بستی سے میلوں باہر ان جیسے ہی اور بھی گھر ہیں جن کے آنگن جلتے بجھتے ایسے ہی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 152 سے 5858