شاعری

تلاش

ایک محراب پھر دوسری پھر کئی بے کراں تیرگی میں ہویدا ہوئیں کوئی تھا کوئی ہے کوئی ہوگا کہیں ساعتیں تین اک ساتھ پیدا ہوئیں روح کے ہاتھ میرے بدن کا گلا گھونٹ کر تھک گئے ہاتھ میرے بدن کے بھی اٹھے مگر دامن خواہش رائیگاں تک گئے انگلیاں ٹوٹ کر کرچیاں ہو گئیں مٹھیاں بند ہونے سے مجھ پر ...

مزید پڑھیے

ایک بات

مجھے ہر اک بات کی خبر ہے جو ہو چکی ہے جو ہو رہی ہے جو ہونے والی ہے آج لیکن میں صرف اس بات کے بھنور میں اتر رہا ہوں جو ہونے والی ہے جس کو سرگوشیوں کا اک بے کراں سمندر اگلنے والا ہے کارواں جس کا اب حکایت کی سر زمینوں پہ چلنے والا ہے جس کو ہر داستاں گلے سے لگانے والی ہے جس کی ہاں میں ہر ...

مزید پڑھیے

دن ایسے یوں تو آئے ہی کب تھے جو راس تھے

دن ایسے یوں تو آئے ہی کب تھے جو راس تھے لیکن یہ چند روز تو بے حد اداس تھے ان کو بھی آج مجھ سے ہیں لاکھوں شکایتیں کل تک جو اہل بزم سراپا سپاس تھے وہ گل بھی زہر‌ خند کی شبنم سے اٹ گئے جو شاخسار درد محبت کی آس تھے میری برہنگی پہ ہنسے ہیں وہ لوگ بھی مشہور شہر بھر میں جو ننگ‌ لباس ...

مزید پڑھیے

دیپک راگ ہے چاہت اپنی کاہے سنائیں تمہیں

دیپک راگ ہے چاہت اپنی کاہے سنائیں تمہیں ہم تو سلگتے ہی رہتے ہیں کیوں سلگائیں تمہیں ترک محبت ترک تمنا کر چکنے کے بعد ہم پہ یہ مشکل آن پڑی ہے کیسے بھلائیں تمہیں دل کے زخم کا رنگ تو شاید آنکھوں میں بھر آئے روح کے زخموں کی گہرائی کیسے دکھائیں تمہیں درد ہماری محرومی کا تم تب جانو ...

مزید پڑھیے

قحط وفائے وعدہ و پیماں ہے ان دنوں

قحط وفائے وعدہ و پیماں ہے ان دنوں زوروں پہ احتیاط دل و جاں ہے ان دنوں ملعون ہیں جو موسم گل کے جنوں میں ہیں متروک رسم چاک گریباں ہے ان دنوں یہ رسم رفتگاں تھی فراموش ہو گئی اپنے کئے پہ کون پشیماں ہے ان دنوں آنکھیں ہیں خشک صورت صحرائے بے گیاہ سینہ ہجوم اشک سے گریاں ہے ان دنوں یہ ...

مزید پڑھیے

واسطے جتنے تھے سب وہم و یقیں نے چھوڑے

واسطے جتنے تھے سب وہم و یقیں نے چھوڑے آسماں سر سے ہٹا پاؤں زمیں نے چھوڑے کون تھا کیوں نہ رہا کیسے کریں اس کا پتہ اپنے دکھ بھی تو مکاں میں نہ مکیں نے چھوڑے خلقت شہر نہ مانی مرا ملحد ہونا ورنہ شوشے تو بہت مفتی دیں نے چھوڑے ہم نہ آغاز کے مجرم تھے نہ انجام کے ہیں ہاتھ میں ہاتھ لیے تم ...

مزید پڑھیے

عشق میں معرکے بلا کے رہے

عشق میں معرکے بلا کے رہے آخرش ہم شکست کھا کے رہے یہ الگ بات ہے کہ ہارے ہم حشر اک بار تو اٹھا کے رہے سفر غم کی بات جب بھی چلی تذکرے تیرے نقش پا کے رہے جب بھی آئی کوئی خوشی کی گھڑی دن غموں کے بھی یاد آ کے رہے جس میں سارا ہی شہر دفن ہوا فیصلے سب اٹل ہوا کے رہے اپنی صورت بگڑ گئی ...

مزید پڑھیے

عشق سے کیسے بعض آئیں ہم عشق تو اپنا دھرم ہوا

عشق سے کیسے بعض آئیں ہم عشق تو اپنا دھرم ہوا جس دن عشق سے ناطہ ٹوٹا سمجھو کریہ کرم ہوا پھر یادیں گھر گھر کر آئیں پھر سلگے بن زخموں کے پھر بوندوں نے آگ لگائی پھر ساون سرگرم ہوا روپ تو اس کو ایسا دیتے دنیا دیکھتی لیکن ہم بت سازی ہی چھوڑ چکے تھے جب وہ پتھر نرم ہوا کیسے تیشہ و تیغ ...

مزید پڑھیے

ہتھیلیوں پہ لیے اپنے سر گئے ہیں لوگ

ہتھیلیوں پہ لیے اپنے سر گئے ہیں لوگ سفر پہ اب کہ بہ رنگ دگر گئے ہیں لوگ ترے ستم کا گلہ یوں بھی کر گئے ہیں لوگ کہ اور کچھ نہ چلا بس تو مر گئے ہیں لوگ دلوں کے تیرہ گھروں پر ترے جمال کی دھوپ جو آ پڑی ہے تو کیا کیا سنور گئے ہیں لوگ ہوا ہے یوں بھی کہ اپنی طلب کے صحرا میں مثال موجۂ جوئے ...

مزید پڑھیے

چھوڑ کر دل میں گئی وحشی ہوا کچھ بھی نہیں

چھوڑ کر دل میں گئی وحشی ہوا کچھ بھی نہیں کس قدر گنجان جنگل تھا رہا کچھ بھی نہیں خاک پائے یاد تک گیلی ہوا نے چاٹ لی عشق کی غرقاب بستی میں بچا کچھ بھی نہیں حال کے زنداں سے باہر کچھ نہیں جز رود مرگ اور اس زنداں میں جز زنجیر پا کچھ بھی نہیں ہجر کے کالے سمندر کا نہیں ساحل کوئی موجۂ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 150 سے 5858