تلاش
ایک محراب پھر دوسری پھر کئی بے کراں تیرگی میں ہویدا ہوئیں کوئی تھا کوئی ہے کوئی ہوگا کہیں ساعتیں تین اک ساتھ پیدا ہوئیں روح کے ہاتھ میرے بدن کا گلا گھونٹ کر تھک گئے ہاتھ میرے بدن کے بھی اٹھے مگر دامن خواہش رائیگاں تک گئے انگلیاں ٹوٹ کر کرچیاں ہو گئیں مٹھیاں بند ہونے سے مجھ پر ...