اتنی تلخ فضا میں بھی ہم زندہ ہیں
اتنی تلخ فضا میں بھی ہم زندہ ہیں اپنے درد کے سورج سے تابندہ ہیں ڈھلتی رات کے تارے ہیں ہم صحرا میں سچ پوچھو تو خود سے بھی شرمندہ ہیں
اتنی تلخ فضا میں بھی ہم زندہ ہیں اپنے درد کے سورج سے تابندہ ہیں ڈھلتی رات کے تارے ہیں ہم صحرا میں سچ پوچھو تو خود سے بھی شرمندہ ہیں
تم گھٹاؤں کا اہتمام کرو اذن جام شراب ہم دیں گے تم گناہوں کا لطف تو لے لو حشر کے دن حساب ہم دیں گے
تو مرے ساتھ اب نہیں ہے دوست چاندنی کس لئے ترستی ہے جام اب کیوں کھنکتے رہتے ہیں یہ گھٹا کس لئے برستی ہے
نہ تیرے درد کے تارے ہی اب سلگتے ہیں نہ تیری یاد کی اب چاندنی برستی ہے یہ کیسا وقت، محبت میں تیری آیا ہے مری حیات، ترے غم کو بھی ترستی ہے
مری جوانی بہاروں میں بھی اداس رہی فضائے درد تمنا کو راس آ نہ سکی خوشی افق پہ کھڑی دیکھتی رہی مجھ کو اسے بلا نہ سکا، خود وہ پاس آ نہ سکی
آ کہ بزم طرب سجا لیں ہم آ کہ عشرت کا گیت گا لیں ہم زندگی عمر بھر کا رونا ہے آ کہ پل بھر کو مسکرا لیں ہم
ہم فقیروں کی بات کیوں پوچھو روز مرتے ہیں، روز جیتے ہیں اک نیا زخم دن کو ملتا ہے اک نیا زخم شب کو سیتے ہیں
آسماں کی بلندیوں سے ندیم ایک روشن ستارہ ٹوٹ گیا میرے ہاتھوں سے جام مستقبل فرش ماضی پہ گر کے پھوٹ گیا
اے غم دوست، ہم نے تیرے لئے کتنے ہونٹوں کے جام توڑے ہیں کتنی زلفوں کے سائے ملتے تھے کتنی زلفوں کے سائے چھوڑے ہیں
آرزو کے دیئے جلانے سے یہ اندھیرے تو کم نہیں ہوں گے کب زمانے میں غم نہیں تھے دوست کم زمانے میں غم نہیں ہوں گے