اے غم دوست، ہم نے تیرے لئے

اے غم دوست، ہم نے تیرے لئے
کتنے ہونٹوں کے جام توڑے ہیں
کتنی زلفوں کے سائے ملتے تھے
کتنی زلفوں کے سائے چھوڑے ہیں