آسماں کی بلندیوں سے ندیم

آسماں کی بلندیوں سے ندیم
ایک روشن ستارہ ٹوٹ گیا
میرے ہاتھوں سے جام مستقبل
فرش ماضی پہ گر کے پھوٹ گیا