مری جوانی بہاروں میں بھی اداس رہی

مری جوانی بہاروں میں بھی اداس رہی
فضائے درد تمنا کو راس آ نہ سکی
خوشی افق پہ کھڑی دیکھتی رہی مجھ کو
اسے بلا نہ سکا، خود وہ پاس آ نہ سکی