ہم فقیروں کی بات کیوں پوچھو

ہم فقیروں کی بات کیوں پوچھو
روز مرتے ہیں، روز جیتے ہیں
اک نیا زخم دن کو ملتا ہے
اک نیا زخم شب کو سیتے ہیں