ہم فقیروں کی بات کیوں پوچھو کشمیری لال ذاکر 07 ستمبر 2020 شیئر کریں ہم فقیروں کی بات کیوں پوچھو روز مرتے ہیں، روز جیتے ہیں اک نیا زخم دن کو ملتا ہے اک نیا زخم شب کو سیتے ہیں