خاموش شکوے
دونوں خاموش تھے کسی نے کسی سے کچھ نہیں کہا چہرے لہروں سے بیگانہ پر سکون تھے نظریں آنکھوں کی جھیل میں غوطہ زن تھیں مگر دل کے دریا میں طوفانوں کا شور تھا
دونوں خاموش تھے کسی نے کسی سے کچھ نہیں کہا چہرے لہروں سے بیگانہ پر سکون تھے نظریں آنکھوں کی جھیل میں غوطہ زن تھیں مگر دل کے دریا میں طوفانوں کا شور تھا
پیچ دار پہاڑوں پر چڑھتے راستے ہانپنے لگے پیشانی پر جھلملاتے آبدار موتی پوچھے نیچے وادیوں میں دیکھا بادلوں کے لہراتے آنچل اوڑھے مخمور گنگناتی مسکراتی پہاڑوں کے قدم چومتی وادیوں کی آغوش میں مچلتی سبزہ زاروں سے اٹکھیلیاں کرتی نشے میں جھومتی آبشاروں کو گلے لگاتی پیغام آشتی ...
اور ہوائیں سکتے کے عالم میں کھڑی ہیں سمتیں بے زبان سی اک ایک کو دیکھ رہی ہیں بلندی پر اڑتا اعتماد کا طیارہ ضرورتوں کے پہاڑ سے ٹکراتا توازن کھو بیٹھا اور بکھر گیا پھر
مجھے مما میری نہ لوری سناؤ مجھے آپ اک کمپیوٹر دلاؤ تمنا ہے روبوٹ سب کو بناؤں میں ان انگلیوں پر جہاں کو نچاؤں ستاروں کو اتنا میں معذور کر دوں گزر گہہ بدلنے پہ مجبور کر دوں نہیں مجھ کو سننی وہ باتیں پرانی میں نقطوں سے اب خود بناؤں کہانی ملا تیس نقطے فقط اک بناؤں میں پھر دشمنوں پر ...
زندگی ہموار راستے پر گرد و پیش سے بے نیاز رواں تھی اچانک راہ گزر نا ہموار ہوئی قدم گرتے سنبھلتے لڑکھڑاتے بڑھنے لگے آنکھیں کچھ کچھ بولنے بہت کچھ سمجھنے لگیں اور تب ڈرنے بھی لگیں یہ کس نے جادو کر دیا مجھ پر
نہ تو ہیر نہ میں رانجھا نہ میں مجنوں نہ تو لیلیٰ پھر ہم سچ کیوں بولیں کیا تم نے سچی باتیں کہنے والوں کو سکھی دیکھا ہے میں نے تو ان کو جنم جنم سے دکھی دیکھا ہے
پھوار سی برس رہی گھٹا کی نرمیوں تلے فسوں طرازیٔ فضا کے سر میں سر ملا کے گا رہی زمین زادیاں نمو کی آنچ میں نہائی نرم گیلی مٹیوں میں دھان کے چراغ روپتی ہوئی سنا رہی ہیں فصل نو بہار کی بشارتیں درخت وجد میں ہیں یوں کہ جیسے جھومتے ہوئے شراب ارغواں کے صید مست زمین زادیاں ثنا و حمد کی ...
دل میں اک معدوم زمانے کے اور اک دنیا کے ہونے کی امید لیے آنکھوں میں پت جھڑ تھامے ساکت سرد ہوا پر اڑتی تتلی رک جا تھم جا مجھے یہ ڈر لگتا ہے اک دن یہی ساکت سرد ہوا جھکڑ بن جائے گی یہی تلوے چومتی مٹی بگولے بن کر تیرے تعاقب میں نکلے گی تیرے نرم پروں کی دشمن پاگل تتلی تیرے خواب تیری دنیا ...
رخصت اے ہواۓ یخ بستہ پھاگن کی ہوا گاتی آئی پر کھول کے جاگی انگڑائی باغوں میں آم کی شاخوں پر پھر من للچاتے بور لگے بچپن کو شرارت پھر سوجھی سردی سے ٹھٹھری گٹھڑی سی کمبخت خطائیں پھر سنکیں کوئل منقار میں کوک لیے خوشبو کی جسامت ڈھونڈ رہی پاگل پن کی تصویر ہوئی پھر من جنگل میں مور نے ...
ندی رواں ہے اوپر پل سے ریل گزرتی ہے پل سے نیچے صبح کا سورج جل دھارے پر جھلمل دھوپ سے سات سروں میں نظمیں لکھتا ہے چاندی چاندی ریتیلے ساحل پر تم قدموں سے پھول کھلاتی ہو اور دو آنکھیں اس بحرانی اندھے بہرے گونگے یگ میں سرخ زمیں کی نم مٹی سے دشت کی کھوئی خوشبو چنتی ہیں