شاعری

زمین نہیں جانتی

میں نے موت کا چہرہ حنوط کر کے مسکراہٹ کے تابوت میں بند کر دیا مرگ فروش گرہوں کا شمار تو سب نے کیا باقی ان دیکھی گرہیں بندھ گئی ہیں میری سانس کی ڈور کے ساتھ انہیں گننے کے لیے سیکھ لیا میں نے راج ہنس سے گیت سات دن میں سبزہ زار میں ٹھہروں گی اور پھر زمین کے آر پار کرن کی صورت جذب ہو ...

مزید پڑھیے

ایک سگریٹ تھی

تیز مہکار پھر لہریے دار تصویر میں ڈھل گئی ایک سگریٹ تھی جل گئی دوسری تیرے ہاتھوں میں آ کے سلگنے لگی راکھ جھڑنے لگی راکھ داں اس نومبر کا بھر جائے گا اور بھی آخر آخر آئے آئے گا راکھ سے اڑتی چنگاریوں سے بھرا ایک دن کب کا سورج کی آنکھوں میں رکھا ہوا رات کے اس کنارے پہ ٹانکا ہوا چاند ...

مزید پڑھیے

ماٹی تیرے رنگ ہیں گہرے

میں راکھ زدہ مسکراہٹ جنتی ہوں کھنچتی ہیں لکیریں اور نقوش بگڑتے چلے جاتے ہیں تمہاری مسکراہٹ کی طراوت کیوں نہیں جاتی یہ تو اور ہی رنگ کا گارا ہے کس نے گوندھی ہے میری مٹی رنگ ہی نہیں بدلتا میں اپنے رنگ میں تمہارا رنگ ملاتی ہوں نہ میں رہتی ہوں اور نہ تم آوے کا خالی پن قہقہے لگانے ...

مزید پڑھیے

خود کلامی سے پوچھا نہیں

سرمئی بادلوں کو اڑا لے گئی رس بھری بارشیں کھا گئی اب افق پر ہیں زہراب نیلاہٹیں کاسنی بیل دیوار پر سوئی ہی رہ گئی نرگسی پھول تھے جاگتے رہ گئے چمپئی رنگتوں میں عجب زردیاں گھل گئیں کھیل رنگوں کا ہے اوٹ کاغذ کی ہے ہاتھ کی بے ہنر لرزشیں رنگ کب چن سکیں سوچتے سوچتے آنکھ ساکت ہوئی کون سے ...

مزید پڑھیے

رت بدلی رے

موسم باہیں کھول رہا ہے گدرائی ہے شام بسنتی دن چپکے سے دیکھ رہا ہے لمحوں کا اک تھال سنہرا دل نے کیسے تھام رکھا ہے آنچل میں ہے ایک ستارہ جھلمل جھلمل بول رہا ہے دھک دھک دھک دھک ایک ہی بولی دل کا پنجرہ کھول رہی ہے بے چینی کا رقص انوکھا اک اک سر کی تال عجب ہے خوشبو کی بھی آنچ غضب ہے سارا ...

مزید پڑھیے

گرہیں کھلتی نہیں

کیسی گرہوں میں تار نفس ہے یہ الجھا ہوا ساری پیشانیوں پر لکیروں کا پھیلا ہوا جال ہے اس میں جکڑی گئی مسکراہٹ کہیں دھجیاں چار اطراف اڑنے لگیں کس کا ملبوس ہے ہر نگر ہر گلی خوف ہی خوف ہے اگلی باری ہے کس کی کسی کو پتا تک نہیں منہ چھپائے ہوئے طعنے، دشنام سہتے ہیں جو اجنبی اپنے ہی تو ...

مزید پڑھیے

یہ دن

یہی دن تو ازل سے میری قسمت تھا مگر آنکھوں میں صحرا نے بھری وہ ریت سب تاریک لگتا تھا میں کتنے ہی سرابوں اور عذابوں سے تھی گزری خشک ہونٹوں پر دعائیں بھی نہیں تھیں ابھی تو آسماں دیکھا تھا میں نے نشاں تک بھی نہیں تھا بادلوں کا عجب دن ہے سر صحرا ہے وہ جل تھل کہ ہم یوں بھیگتے چھینٹے ...

مزید پڑھیے

گفتگو نظم نہیں ہوتی ہے

گفتگو کے ہاتھ نہیں ہوتے مگر ٹٹولتی رہتی ہے در و دیوار پھاڑ دیتی ہے چھت شق کر دیتی ہے سورج کا سینہ انڈیل دیتی ہے حدت انگیز لاوا خاکستر ہو جاتا ہے ہوا کا جسم گفتگو پہلو بدلتی ہے اور زمین آسمان کی جگہ لے لیتی ہے راج ہنس داستانوں میں سر چھپا لیتے ہیں اونٹنیاں دودھ دینا بند کر دیتی ...

مزید پڑھیے

کھلی آنکھوں کا سپنا

ہوا مٹی کے سوندھی بو سے بوجھل مرے چہرے کو چھوتی پہلی بارش وسیع میدان میں سبزے کا ساگر سڑک کا روپ برکھا میں اجلتا مکاں سب شہر کے مل کر نہاتے فلک بادل زمیں بیتا زمانہ مکاں گلیاں شہر یادوں کی خوشبو کھلی آنکھوں سے سپنا دیکھتا ہوں خلا میں دور مری دسترس سے فلک کی وسعتوں میں چاند ...

مزید پڑھیے

پرواز

ایک پل حد نگاہ چکنی کالی سڑک دائیں آسماں سے باتیں کرتیں عمارتیں بائیں زمین کی قدم بوسی کرتی جھونپڑیاں اوپر نیلگوں بے کراں آسماں اور اس پر گدھوں کی بارات متجسس نگاہیں چاروں جانب دیکھتیں مایوسی دامن پکڑتی پھر اداس چشم حیراں امید کی کرن تھامے چاروں جانب بھٹکیں مگر ایک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 811 سے 960