شاعری

ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں

اٹھو سیلے کمرے سے باہر کو نکلو وہاں ہے زمانہ تغیر پذیر کہ ہم چاہ تاریک میں اپنی آنکھیں نہ کھو دیں اٹھیں جب تو سب چیزیں بدلی ملیں اور سارے تماشے ہمیں اجنبی آنکھ سے گھورتے ہم سے پوچھیں کہ تم کون ہو کس عجائب کدے سے نکل آئے ہو اور جب اپنی جیبیں ٹٹولیں تو سکے ہمارے زر و سیم کے قیمتیں ...

مزید پڑھیے

میں نے اک چیز بچا رکھی ہے

یہ خرابہ کہ کوئی گنبد تاریک ہے یہ کوئی سوراخ نہیں کوہ سیہ کے اس پار آنکھ دیکھے کوئی تارا جگنو اس خرابے کی سحر بھی کیا ہے بیوگی صبح کی چوکھٹ تھامے اپنی پیشانی کی کھوئی ہوئی بندی میں گم سرخ اگتے ہوئے سورج کو کھڑی گھورتی ہے دن کا یہ حال کہ بس دھول اڑتی ہے بدن میں دن بھر جیٹھ دوپہر کی ...

مزید پڑھیے

اسی ہوائے بہار میں تم سے پھر ملوں گا

یہ وہم ہے تو برا نہیں ہے جو خواب سمجھو تو خواب سمجھو مگر ملوں گا یقیں کے سورج کی راس تھامے گھڑی کی سوئی گھما سکو تو صدی کی فصل بہار موسم کے در پہ روکو جہاں ہوا نے بدن چھوا تھا تو دست جاناں کی گوندھی مٹی مہک اٹھی تھی جہاں لبوں نے دعا پڑھی تو زمیں کے سینے پہ پھول مہکے پرند چہکے کئی ...

مزید پڑھیے

سکوت گلنار ہو رہی ہے

افق کی سیڑھی اتر کے سورج سکوت دریا کو چومتا ہے سکوت گلنار ہو رہی ہے کنار دریا کھڑے ہوئے سب درخت حیرت سے دیکھتے ہیں سکوت میں رنگ رنگ میں چھب وہیں پہ کوئی کنار دریا بچھی ہوئی ریت کی دری کو الٹ کے جاناں کسی تقدس مآب ساعت لکھی ہوئی اک حسین سی نظم ڈھونڈھتا ہے

مزید پڑھیے

کہ اب جو مرحلہ ہوگا

یہی لگتا ہے غیر اعلانیہ کچھ ناروا اعلان شاید ہو چکا ہے یہ اک لمحہ بہت سنجیدگی سے سوچنے کا ہے کہ اس کے بعد اب جو مرحلہ ہوگا کسی سم سم کے کھلنے کا نہ شاہوں کے دفینے ہاتھ آنے کا نہ جشن و رقص کا ہوگا بھیانک روح فرسا مرحلہ وہ یقیناً اشک و خاک و خوں نہائے شہر سے ملبہ ہٹانے اور تعفن سے ...

مزید پڑھیے

لیکن

اب خدا کو بھی ذرا آرام کرنا چاہیئے اک زمانے سے مسلسل کر رہا ہے تین شفٹیں اور دنیا بھر کے تہواروں پہ بھی مل نہیں پائی کبھی رخصت اسے ہفتہ واری یعنی وہ جو دا اینڈ پہ ایک چھٹی ساری دنیا میں ہی دی جاتی ہے اب اس کی وہ چھٹی ازل سے بند ہے سینکڑوں بیماریوں میں کام کرتے ہی اسے پایا ہے میں ...

مزید پڑھیے

اضافی ضرورتوں کے لیے ایک نظم

ہر آدمی کی قسمت میں ایک نہ ایک سزا ہوتی ہے میرے لیے ہر بار تم سے دور رہنے کی سزا منتخب کی جائے گی نا انصافی کے پیش نظر سزا کا کام کسی منصف پر نہیں چھوڑا جائے گا لیکن اس کے باوجود وہ توہین کا وہ نوٹس نہیں جاری کر سکیں گے جس میں وہی ہوں گے مدعی وہی ہوں گے منصف ہماری شہریت کو خام کر دیا ...

مزید پڑھیے

کیا ہونا ممکن ہے

اگر تم کسی دن کچھ بن جاؤ یعنی تم ایک حرف بن جاؤ جو اب تک کسی حروف تہجی کا حصہ نہ ہو تو جدلیاتی مادیت کے مطابق کیا ہوگی تمہاری حیثیت کیا کہیں گے تمہارے بارے میں اہل شریعت کس مقام پر رکھیں گے تمہیں اہل طریقت؟ کون سی جمہوریت تمہیں قبول کرے گی کیا سلوک کریں گے تمہارے ساتھ ...

مزید پڑھیے

پاگلوں کی مدح میں

پاگلوں سے نہیں بہت ڈر لگتا ہے، مجھے نارمل اور ذہین لوگوں سے کچھ بھی کر سکتے ہیں وہ اپنی محبوبیت میں قہر اور فتنے سے بھری خود پسندی میں کچھ بھی سوچ سکتے ہیں کچھ بھی چاہ سکتے ہیں منصوبے بنانا اور سازشیں کرنا مشکل نہیں ہوتا ان کے لیے یقین رہتا ہے انہیں کچھ بھی کر سکتی ہے ذہانت اگر ...

مزید پڑھیے

کل والوں کے لیے

ہمیں ان سے ملنا ہے جو کل کے ہیں ہمارے پاس وہ کل ہیں اور ان کے درمیان ہے معدوم ایک آج جس کا رقبہ ایک صفر پر محیط ہے اس صفر میں ہے ایک دنیا جو کل سے آئی ہے اور کل کی طرف جا رہی ہے ہم اس کل پر ایک قالین بچھاتے جو جہنم میں چلنے کا مشورہ دیتی ہے میں اس سے پوچھتا ہوں کیا اس نے ویزا لگوا لیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 813 سے 960