شکایت
توبہ خط میں کیسی باتیں لکھتے ہو یہاں بھرے پرے اس گھر میں لکھنا پڑھنا سب کو آتا ہے
توبہ خط میں کیسی باتیں لکھتے ہو یہاں بھرے پرے اس گھر میں لکھنا پڑھنا سب کو آتا ہے
ابتدا ہو گئی موت کے گیت کی ہے ہواؤں میں دھن دکھ کے سنگیت کی شہر دکھنے لگا ہے بیابان سا رات سنسان سی دن پریشان سا ساری مانوس گلیاں ہیں انجان سی زندگی چند لمحوں کی مہمان سی میرے معبود سانسیں بدن کے لیے ایک زنجیر من کے ہرن کے لیے دے چھناکا کوئی خامشی کے لیے کوئی جملہ کسی کی ہنسی کے ...
دھرم کے نام پے قاتل کی حمایت کرنا اور پھر ملک کے جلنے کی شکایت کرنا کتنا آسان ہے ہندو و مسلماں ہونا صرف مشکل ہے کسی شخص کا انساں ہونا ظلم کی دھوپ و امکاں بھی نہیں چھاؤں کا ایک سا حال ہے اب گاؤں کا صحراؤں کا ایسے حالات میں آنکھوں میں لہو کو لاؤ نغمۂ عشق کو سب زور سے گاؤ گاؤ کوئی بھی ...
وہ سارے رشتہ جنہیں تمہارے قریب آ کر بھلا دیا تھا وہ سب مراسم کہ جن کو میں نے تمہاری قربت میں توڑ ڈالا تمہاری زلفوں کا سایہ پا کر کے جن درختوں کی ٹھنڈی چھاؤں سے اٹھ گیا تھا وہ ساری آنکھیں جو راہ الفت پہ میری آمد کی منتظر تھیں وہ سارے پاؤں جو ساتھ چلنے کی خواہشوں میں کھڑے ہوئے ...
ایک نظم کہنی ہے دو اداس آنکھوں پر جیسے گل کھلانا ہو زرد زرد شاخوں پر میرے کاسۂ فن میں ٹوٹے پھوٹے مصرعے ہیں اور دسترس میں دوست کچھ خیال دھندھلے ہے اور ان خیالوں میں ایک التجا بھی ہے التجا بھی اتنی بس ہونٹوں پے لگی چپ کو آپ تج دیا کیجے ایک دو مہینے میں کھل کے ہنس لیا کیجے اور یہ بھی ...
وہ شخص جس کو ہنستے ہوئے گھر پسند تھے وہ شخص جس کو بولتے منظر پسند تھے وہ شخص جس کے ساتھ سمے خوش گوار تھا وہ شخص جانے کتنے دلوں کا قرار تھا کچھ وقت سے وہ حالت دنیا سے ہے خفا خوشبو سے رنج کوہ سے دریا سے ہے خفا آنکھیں اداس ایسی کہ ماتھے پہ بل پڑیں افسردگان شہر کے آنسو نکل پڑیں دنیا میں ...
ایک پھول بگیا میں میں نے دیکھا ہے جس میں ایک پنکھڑی کم ہے باقی سارے پھولوں سے پر اسے میسر ہے ایک سا ہوا پانی ایک جیسے رنگ و بو ایک جیسا ہی جادو تتلیاں ہوں بھنوریں ہوں یا کسی کی نظریں ہوں اس میں اور اوروں میں فرق ہی نہیں کرتیں ہاں مگر مرے پیارے یہ چمن کا قصہ تھا آدمی کی بستی میں اس ...
آنگن میں پانی آیا ہے کیا اچھا تالاب بنا ہے کاغذ ہم اچھے اچھے لائیں پھاڑ کے ان کو ناؤ بنائیں ناؤ تمہاری ٹوٹی اختر ڈوب رہی ہے چکر کھا کر کھیلیں کودیں دل بہلائیں دوڑو اکبر اس کو بچائیں کیا اچھا تالاب بنا ہے کیا اچھا تالاب بنا ہے پانی میں سب مل کر جائیں اپنی اپنی ناؤ بہائیں کھیل میں ...
شہاب ثاقب کا کھیل دل کی اگر فضاؤں کو خیرہ کر دے تو میں سمجھ لوں کہ میرے اندر کشش کی سرحد پہ ایک چھت ہے کہ جس میں پیہم مسرتوں کے ہزاروں تارے چمک رہے ہیں مگر قدامت کی انتہا کو جو چھو چکے ہیں شکستہ ہو کر ہر ایک لمحہ بکھر رہے ہیں
نکتہ دان ادب تم کو کیا ہو گیا لہلہاتی ہوئی ذہن کی فصل میں کس لئے کر رہے ہو بجوکے کھڑے اس طرف وہ چرندے نہیں آئیں گے اشتہا کی جو بے چینیوں کو لئے بوتے رہتے ہیں ہر سمت بربادیاں نکتہ دان ادب ذہن کی فصل کی ہو سکے تو بہاریں مجسم کرو خوف کے استعاروں سے کیا فائدہ