شاعری

تعارف

میں ایک کورا کاغذ جس پر ہر دو نسلوں نے اپنی کہانی لکھی یا ایک درخت جس کے سایہ میں بیٹھے لوگوں نے اس کے پتوں کو نوچا کبھی نہ سوچا سایہ دینے والے کو بھی سایہ اچھا لگتا ہوگا میں ایک کوئل جو آواز کا جادو بانٹے یا پھر بادل جو بنا تفریق کئے برس جائے یا پھر پاگل جو کچھ نہ سمجھے جس کے ذہن ...

مزید پڑھیے

گھات

رات کی تھی تنہائی خاموشی کا ڈیرا تھا سوئے سوئے پتوں پر درد کا بسیرا تھا آنسوؤں کا گھیرا تھا دور جب سویرا تھا ایسے سرد موسم میں رات کے جھمیلے میں کھو گئے اکیلے میں دو دلوں کو ملنا تھا جھیل بھی اکیلی تھی چاند بھی اکیلا تھا

مزید پڑھیے

کبھی ایسا تموج تم نے دیکھا ہے

کبھی ایسا تموج تم نے دیکھا ہے کبھی جذبات کا ایسا تموج تم نے دیکھا ہے کہ سینے میں بھنور پڑتے ہوں تشنہ آرزوؤں کے مگر ان کو میان موج رستہ بھی نہ ملتا ہو کنارے تک رسائی کا اشارہ بھی نہ ملتا ہو جب ایسا ہو تو ہر چشمے سے دھارے پھوٹ بہتے ہیں وہ سنگ و گل کے پشتے ہوں کہ دریا کے کنارے پھوٹ ...

مزید پڑھیے

ایک نظم

ہر چند ہے ذوق کامرانی ہنگامۂ‌‌ زندگی کا باعث ہر چند ہے آگہی کی زد میں یہ حسن گل و مہ و ستارہ ہر چند ہر آرزو کا دھارا گم دشت سراب میں ہوا ہے انجام‌ عمل ہے سرگرانی اک اشک الم ہے زندگانی لیکن نہ رہے اگر جہاں میں تکمیل ہنر کی کوئی صورت دنیا میں کہ بے خیال ساحل طوفاں ہے حیات کی ...

مزید پڑھیے

مے شکستہ دلی اے حریف‌ ذوق نمو

مے شکستہ دلی اے حریف‌ ذوق نمو کسی گزشتہ صدی کے اطاق ویراں سے نہ ڈال اور مرے دل پہ سایۂ گیسو وہ عنکبوت جو تار نفس میں جیتے ہیں نہ جانے کیسے در آئے ہیں تیری محفل میں کہ خون یہ بھی ترے رت جگوں کا پیتے ہیں میں جانتا ہوں کسے مل سکی کسے نہ ملی وہ گل سرائے بہشت آفریں مگر پھر بھی مجھے ...

مزید پڑھیے

فقط حرف تمنا کیا ہے

شام روشن تھی سنہری تھی مگر اتری چلی آتی تھی زینہ زینہ آ کے پھر رک سی گئی شب کی منڈیروں کے قریں اک ستارہ بھی کہیں ساتھ ہی جھک آیا تھا جیسے وہ چھونے کو تھا کانوں کے بالے اس کے گیسوؤں کو بھی کہ تھے رخ کے حوالے اس کے کہنیاں ٹیکے ہوئے ایک دھڑکتی ہوئی دیوار پہ وہ کھلکھلاتے ہوئے کچھ مجھ ...

مزید پڑھیے

اے زمستاں کی ہوا تیز نہ چل

اے زمستاں کی ہوا تیز نہ چل اس قدر تیز نہ ہو موج سبک خیز کی رو کہیں اشجار کے خیموں کی طنابیں کٹ جائیں زرد پتے ہیں ابھی گلشن ہستی کا سنگھار کہہ رہی ہے یہ ابھی عہد گذشتہ کی بہار رنگ رفتہ ہوں مگر آج بھی تصویر میں ہوں مرتسم ہیں مری شاخوں پہ مری یاد کے چاند میں ہنوز اپنے خیالات کی زنجیر ...

مزید پڑھیے

ایک خواہش

شفق کے رنگ سارے رنگ تم آنکھوں میں بھر لو صبح جب سورج پہاڑوں سے ادھر کہرے میں ڈوبی وادیوں میں آنکھ کھولے تم شفق کے رنگ سارے رنگ اس کی نذر کر دینا

مزید پڑھیے

میں بے ہوں

میں بے ہوں جب الف کو دیکھتا ہوں دکھ اٹھاتا ہوں کہ وہ اول ہے میں آخر مگر جب پے کو دیکھوں تے کو دیکھوں مسکراتا ہوں بہت تسکین پاتا ہوں خوشی سے کھلکھلاتا ہوں کہ میں بے ہوں

مزید پڑھیے

یہ کتابیں

یہ کتابیں جو تم پڑھ رہے ہو انہیں ایسے لوگوں نے لکھا ہے جو زندگی بھر کتابیں ہی پڑھتے رہے

مزید پڑھیے
صفحہ 786 سے 960