شاعری

محبت ختم ہے تم پر

تم کیا جانو آواز سفر کرتی ہے دور مندروں میں بجتی گھنٹیوں کی طرح جسم بولتے ہیں دریا کی لہریں جب کناروں سے ٹکراتی ہیں تلاطم خیز موجوں کا عجب اک شور اٹھتا ہے اور اس پر پڑتی کمروں کی روشنی خاک دریا میں روح پھونک دیتی ہے تم بچوں کو پریوں چاند ستاروں کی کہانیاں سناتے ہو بے خبر یہ سبھی ...

مزید پڑھیے

ہیرو

میرا باپ میری زندگی کا ہیرو ہے مایوسیوں سے بھرے دنوں میں اس کا ایک اک لفظ میرے ساتھ ساتھ چلتا ہے یاد ہے مجھے کتنی اداس شاموں میں سنائی گئی اس بوڑھے ماہی گیر کی سمندر میں جاری جنگ کی داستاں بوڑھا اور سمندر اور پھر ہار جانے پر کئی بار یہ الفاظ میری روح میں اترتے رہے تباہی تو مقدر ہے ...

مزید پڑھیے

نظم

رات کے پھیلتے سناٹوں میں دل کے زندان میں اک یاد کا دیپک سا جلا پھڑپھڑاتی ہے بہت لو اس کی وادیٔ ہجر سے آتی ہیں صدائیں جتنی اس کے سینے میں بہت گونجتی ہیں اسم ہجرت سے عجب سبز ہوا ہے زنداں اک سکوں ہے کہ جو وحشت میں بھی آسودہ ہے

مزید پڑھیے

نو نیڈ آف پاسورڈ

ہم محبت کا پاسورڈ نوٹ پیڈ پر لکھ کر بھول گئے ہیں مگر تیری آنکھیں نہ جانے کس جادوئی منتر کے نم سے دھلی ہیں کہ اسیر کر لیتی ہیں میرے دل کی دھڑکنوں کو اپنی پلکوں کی لرزش میں کسی پاسورڈ کے بغیر جیسے چاند کی چاندنی کو رات اپنی آغوش میں سمیٹ لیتی ہے میری محبت اپنی پیاس بجھاتی ہے ہوا کے ...

مزید پڑھیے

مانوس اجنبی

میرے سامنے بیٹھا اجنبی مجھے دیکھتا تھا شاید کوئی آبلہ پا تھا میری آنکھوں سے ہو کر گزرا شاید کوئی دریا تھا کوئی سراب تھا سبھی منظروں سے اوجھل ٹریفک کے دھویں میں گم ہوتا ہوا کوئی ہجوم تھا جیسے کوئی پر سکون سا اماوس راتوں کا درد دیکھتے دیکھتے اپنی صورت بدلنے لگا تھا میں کہنے ہی ...

مزید پڑھیے

محبت کا آخری سائبان

ریت بھری ہوائیں چیرتی ہیں دل کے زخموں کو ٹوٹ جاتی ہیں زنجیریں سانسوں کی کس قدر برہم ہے یہ غصیلی ہوا اے میری محبت کے آخری سائبان مجھے لے چل کسی ایسے ساحل سمندر پر جہاں میں دل کا غبار دھو سکوں سفاک منظر کی دلدل آنکھوں کے آئینے سے اتر جائے میں بھاگتی رہوں دیر تک دور تک یہاں تک کہ ...

مزید پڑھیے

قدرت کی فلیش لائٹ

رات کے نقش اجال کر بالٹی میں بھر دیے گئے چاند جن میں اپنی کرنوں کے موتی اچھالتا تھا جلتی ہوئی ہتھیلی پر کس نے رکھا تھا چاند کو وہ ہاتھ اپنے مل رہی تھی آئینہ دیکھتا تھا منظروں کے دوسری طرف بھیڑیا اپنی گمبھیر آواز فضا میں بکھیرتا بستیوں میں خوف انڈیلتا تھا اسکرین کا پردہ بدل ...

مزید پڑھیے

نظم

دہکتی راتوں کی چاندنی میں ہوا سے پتوں کی سرسراہٹ بہکتی سانسوں کی کپکپاہٹ جوان بانہوں کے گرم ہالے سکوت شب کو بڑھا رہے ہیں پگھل رہی ہے یہ برف ساعت

مزید پڑھیے

ڈر

عمر کی دھوپ ڈھلنے والی ہے زندگی شام کرنے والی ہے کوئی آواز دے رہا ہے مجھے ساتھ چلنے کو کہہ رہا ہے مجھے جانا سب کو ہے جانا ہی ہوگا ڈر نہیں یہ کہ جانے کیا ہوگا کس طرح روح بدن کو چھوڑے گی اس کا مسکن بھلا کہاں ہوگا جانے کیسا نیا مکاں ہوگا گور میں جانے کیسی گزرے گی ریزہ ریزہ بدن جو بکھرے ...

مزید پڑھیے

آئینہ

مری بالکل نئی اور خوب صورت ڈائری پر جب اس کے ننھے منے ہاتھ ٹیڑھی میڑھی لکیریں کھینچ کر اپنے بچپن کو پیش کرتے ہیں تو مجھے بالکل غصہ نہیں آتا اسے حق ہے کہ وہ اپنی معصوم خواہشات اپنی سوچ اپنی چھوٹی سی دنیا کو کاغذ پر اتار دے اپنے دماغ کی ہر گرہ کھول کر رکھ دے جوں کا توں اپنا بچپن کاغذ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 788 سے 960