محبت ختم ہے تم پر
تم کیا جانو آواز سفر کرتی ہے دور مندروں میں بجتی گھنٹیوں کی طرح جسم بولتے ہیں دریا کی لہریں جب کناروں سے ٹکراتی ہیں تلاطم خیز موجوں کا عجب اک شور اٹھتا ہے اور اس پر پڑتی کمروں کی روشنی خاک دریا میں روح پھونک دیتی ہے تم بچوں کو پریوں چاند ستاروں کی کہانیاں سناتے ہو بے خبر یہ سبھی ...