شاعری

مداری

بندر والا اوڑھ دوشالہ گاؤں میں آیا جوڑا لایا بچے آئے بوڑھے آئے نوجوان بھی پہلوان بھی ڈگ ڈگ ڈگ ڈگ ڈگ ڈگ ڈگ ڈگ مست ہوئے ہیں دیکھ رہے ہیں بندر ماما ڈال پاجامہ آئی بندریا باندھ لنگٹیا بندر بھورا دیکھ کے گھورا ڈگ ڈگ ڈگ ڈگ ڈگ ڈگ ڈگ ڈگ کہے مداری کرماں ماری بیاہ کرے گی ساتھ رہے گی کچھ نہ ...

مزید پڑھیے

ہندوستان

ہر مذہب کی اونچی شان جس سے بنا ہے دیش مہان سب کو دیتا پریم کا دان پریم پیار کی ہے یہ کھان ہندو مسلم سکھ عیسائی بودھ اور جینی کی ہے آن پاٹھ یہی ہے پہلا بس بن جاؤ سارے انسان ویر بنو اے پیارے بچو تم بھارت کی ہو سنتان کسی کو کوئی کشٹ نہیں سب سوئے ہیں چادر تان ہر مذہب کا آدر کرتا میرا ...

مزید پڑھیے

کل اور آج

وقت تھا جب کوئی بھی بستا نہ تھا لکھنا پڑھنا تب بھی کچھ سستا نہ تھا ایک تختی تھی قلم تھا اور دوات اس سے زیادہ تھی کہاں کوئی بھی بات قاعدہ ہم کو ملا پڑھنے کو تب دیکھتے پڑھتے تھے رٹتے اس کو سب مل کے سب گنتی پہاڑے بولتے بات کرنے سے ہی پہلے تولتے تب کہاں گنتی کا ہم کو گیان تھا پڑھنا ...

مزید پڑھیے

سچا وید

ہے دیامئے ہم کو شکتی اور ودیا دان کر دور ہوں وپدا ہماری سب کا تو کلیان کر بھید ذات اور پات کا اب تو مٹا دے ہند سے میرے بھارت کی سبھی دیشوں میں اونچی شان کر ہم دھرم پرسار میں سارے لگیں اے ایشور پھر سے سارے دیش میں پیدا اسی کا گیان کر کاٹ دے ہر دکھ کا بندھن ہو سدا تیری دیا میری اس بنتی ...

مزید پڑھیے

رانی راجہ

ایک تھی رانی ایک تھا راجہ مل کر خوب بجاتے باجا گگن پہ دیکھیں اور بلائیں چندا ماما اب تو آ جا اڑ اڑ کر تتلی کہتی ہے مت پکڑے جا جا جا جا جا جگنو چمک چمک کر کہتا پیاری کوئل گیت سنا جا ورشا رانی تو بھی آ کر اپون اپون پھول کھلا جا ہر اک سے کہتا ہے مٹھو میٹھے میٹھے گیت سکھا جا بادل کو بجلی ...

مزید پڑھیے

شری گورونانک دیو جی

درس ترا تھا امن و محبت دور تھے تجھ سے بغض و کدورت تجھ میں پنہاں نور وحدت کیسا کینہ کیسی عداوت غیر کو تو نے اپنا مانا تجھ سے نانک سب کو عقیدت بات بات میں طرز نو تھی تیری دانش تیری حکمت سب کو سچی راہ دکھائی تو تھا سراپا ایک صداقت پیار محبت درس ہے تیرا جھلک رہی ہے جس کی عظمت نا بینا ...

مزید پڑھیے

پیاسا کوا

اک کوا تھا بے حد پیاسا پانی کو وہ ڈھونڈ رہا تھا چاروں اور نظر جو ڈالی دھوپ تھی اور جنگل تھا خالی اڑ کر نیچے اوپر دیکھا پھر جا اونچی شاخ پہ بیٹھا چاروں اور نظر دوڑائی دور اک مٹکا دیا دکھائی خوشی خوشی اس اور کو بھاگا اڑ کر اس جا وہ جا پہنچا مٹکے کے اندر جب جھانکا تہ میں تھوڑا پانی ...

مزید پڑھیے

عید

پیار کی دولت خوب لٹائیں آؤ پھر سے عید منائیں فرق دلوں کے دور بھگائیں دھرتی کو پھر سے سورگ بنائیں نفرت کو ہم دور بھگائیں پریم کا سورج پھر سے اگائیں ودیا کا ہر سو ہو سویرا سویا ہوا سنسار جگائیں دنیا والو سنبھلو اب تو چلنے لگی ہیں کیسی ہوائیں سادہ دلی بھی ساتھ رہے پر ایسا نہ ہو ...

مزید پڑھیے

تیری شان

ہم سب بالک ہیں نادان بدھی ہم کو دو بھگوان پیڑوں کی ہر ڈال ہری ہے پھول بڑھاتے ان کی شان مارگ دکھائیں چاند ستارے اور دیں ٹھنڈک وہ ہر آن جھوم جھوم کر سدا ہوائیں کرتی رہتی ہیں یش گان پھول پھلوں اور ان کا داتا دیتا سب کو جیون دان تو نے سب کچھ دیا ہمیں تو پھر بھی مانگیں ہیں انجان تیرے ...

مزید پڑھیے

طوطا مینا

ایک تھا طوطا ایک تھی مینا تھا اک ساتھ میں ان کا رہنا لیکن ہونی نے دکھلایا مینا کو سب نے بہکایا تیرا طوطا تو ہے کھوٹا بھدا سا ہے اور ہے موٹا چھوڑو اس کو پھر سکھ پاؤ چین کی بنسی بیٹھ بجاؤ لڑنے میں مینا نے نہ سوچا جھگڑا کرکے پر کو نوچا چلی مینا پھر بیاہ رچانے خواب سجانے اور سکھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 726 سے 960