شاعری

تصویر

میں اک تصویر میں ہوں لال زرد سنہری سترنگی کچھ بادل آسماں میں رکھے ہیں کسی نے چولھے پہ سینکے ہوں گے شاید ریت پہ کچھ لکیریں ہیں آ بھی رہی ہیں اور جاتی بھی ہیں ڈھک کے رکھ دیا ہے سورج ماں نے اوس کے برتن میں کہا ہے کل صبح اور ملے گا دور سے وہ بہت بڑا گھر چھوٹا سا لگ رہا ہے میں سوچتا ...

مزید پڑھیے

پہیلیاں

پہیلیاں بجھائی ہیں کبھی ٹیڑھی میڑھی الجھی سلجھی الٹی سیدھی جو کہتی ہیں وہ ہوتا نہیں جو ہوتا ہے وہ سنا نہیں الجھے ہوئے دھاگے سے دیر تک سرا نہیں ملتا کبھی جھٹ سے سلجھ جاتے ہیں کچھ کبھی نہیں سلجھتے کبھی کوئی سرا کھینچو تو اور الجھ جاتے ہیں وقت لگتا ہے بڑا صبر لگتا ہے آؤ ...

مزید پڑھیے

ریت گھڑی

آج پھر پوٹلی کھول کر پرانا سامان مجھے ٹٹول رہا ہے بہت بول رہا ہے ڈبیہ میں کاجل ٹوٹی ہوئی پائل دوپٹے کا گوٹا شیشہ اک چھوٹا کچھ دور پڑی ہے ایک ریت گھڑی ہے لمحے بہتے رہتے ہیں مجھ سے کہتے رہتے ہیں عادتاً تم آج بھی مصروف ہو عادتاً میں دیر تک پلٹتا رہوں ریت گھڑی

مزید پڑھیے

دم

بہت دیر سے جل رہا تھا اک چراغ اس بند کمرے میں سورج کا اک ٹکڑا ہتھیلی سے بٹ کے بتی بنا لی تھی چاند کے کوئلے سے آگ لگا رکھی تھی مٹی کے گملے میں روشنی اگا رکھی تھی بجھا دیا تھا میں نے خود اپنے ہی ہاتھ سے پھر دیر تک اس کے دھوئیں میں دم گھٹتا رہا اسی شام دل کے بند کمرے میں بجھایا تھا میں ...

مزید پڑھیے

ڈور

کبھی کبھی الجھ جاتی ہیں ڈور نہ کوئی سرا نہ کوئی چھور اکثار ڈھلنے لگتا ہے رنگ بدلنے لگتا ہے گرہیں کھلتی جاتی ہیں ریشہ جلنے لگتا ہے کھینچو تو اور الجھتی لگتی ہے نہ ہی ٹوٹے سے سلجھتی لگتی ہے کچھ اسی طرح الجھ گئی ہیں ہماری سانسوں کی ڈور بھی

مزید پڑھیے

ریموٹ

ایسا ایک ریموٹ بنائیں جس سے گھر گھر سکھ پھیلائیں ہیں یہ سندر خواب ہمارے لائیں زمیں پہ چاند ستارے نل سے نکلے دودھ کی دھارا رنگیں تتلی رتھ ہو ہمارا کھیلیں چاچا گلی ڈنڈا بھنگڑا ناچیں دادی دادا کھائیں مچھلی آم کا حلوہ جار میں ہو دنیا کا جلوہ مینڈک گائے میگھ ملہار جھینگر بولا لے کے ...

مزید پڑھیے

نئی دشا کی اور

اپنے لئے اسکول کا آنگن ماں کا سایہ ماں کا دامن دل کو کریں تعلیم سے روشن چاند اور سورج بن کے ہنسیں ہم چلو چلو اسکول چلیں ہم دور غریبی کی ہوں بلائیں علم و عمل کے دیپ جلائیں آؤ بچوں پڑھیں پڑھائیں آج سنہرے خواب بنیں ہم چلو چلو اسکول چلیں ہم عمر کی کوئی قید نہ بندھن دور کرو سب من کی ...

مزید پڑھیے

اس دھرتی کے تارے ہم ہیں

یہ معذور بیکس غبی ذہنی بچے ہیں انساں نہیں کوئی ماٹی کے پتلے زباں سے ہیں گونگے سماعت سے عاری بناؤ نہ ان کو سڑک کے بھکاری ہیں پر پیچ تر ان کی ہستی کے رستے کہ پر سوز جیسے ہوں بنسی کے نغمے سراپے کو ان کے نہ بیکار کہنا یہ ہیں زندگی کا حسیں ایک گہنا کبھی یہ ہنسائیں کبھی روٹھ جائیں دلوں ...

مزید پڑھیے

بچے بڑوں سے بہتر ہیں

معصوم فرشتہ پیکر ہیں ہم بچے بڑوں سے بہتر ہیں آپس میں لڑائی کرتے ہیں پھر صلح صفائی کرتے ہیں دکھ پہنچے کسی سے ہم کو اگر ملتے ہیں دوبارہ پھر ہنس کر کچھ ہم کو نہیں ہے خوف و خطر رکھتے ہیں بھروسہ اللہ پر دل صاف ہمارے من سچے ہم یکساں اندر باہر سے معصوم فرشتوں کے جیسے قوموں کی امانت ہم ...

مزید پڑھیے

خون کا ایک ہے رنگ

آؤ ہم یہ کر کے دکھائیں اس دھرتی کو سورگ بنائیں مل کر ہم سب کریں جتن ٹوٹ نہ پائے کسی کا من بچوں گاؤ جن گن من پیر پیمبر سادھو سنت گیتا قرآں اور گرنتھ مانوتا کے سب ہیں پنتھ مہکا ان سے یہ جیون بچوں گاؤ جن گن من سب کے خون کا ایک ہے رنگ پھر کیوں آپس میں ہے جنگ بدلیں جینے کا یہ ڈھنگ ہم کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 725 سے 960