تصویر
میں اک تصویر میں ہوں لال زرد سنہری سترنگی کچھ بادل آسماں میں رکھے ہیں کسی نے چولھے پہ سینکے ہوں گے شاید ریت پہ کچھ لکیریں ہیں آ بھی رہی ہیں اور جاتی بھی ہیں ڈھک کے رکھ دیا ہے سورج ماں نے اوس کے برتن میں کہا ہے کل صبح اور ملے گا دور سے وہ بہت بڑا گھر چھوٹا سا لگ رہا ہے میں سوچتا ...