شاعری

خواب

جانے کتنے سپنے دیکھے جیون کے اس روپ نگر میں ورشا رت میں جیسے مسافر پریت ڈگر پر پریم سفر میں سپنے جن میں کومل پریاں پر پھیلائے ڈول رہی ہیں آشاؤں کے گیت کی لے پر امرت رس کو گھول رہی ہیں میں نے سوچا میت سبھی ہیں یہ سارا سنسار ہے اپنا سارے جگ کی ریت یہی ہے کڑوی نیندیں میٹھا سپنا دھرتی ...

مزید پڑھیے

علم

سونا چاندی اور نہ گوہر سب سے بہتر علم کا زیور علم کی دولت ہے وہ دولت جتنی بانٹو اتنی برکت اس کو کوئی چور نہ پائے کیسے کوئی اس کو چرائے علم ہمیں جینا سکھلائے بھلے برے کا فرق بتائے پاس نہیں جو علم کا جوہر گوہر پتھر سب ہیں برابر علم سے ہو ذہنوں میں اجالا اندھیاروں کا منہ ہو کالا علم ...

مزید پڑھیے

چھٹی

اب کی گرمی کی چھٹی میں یعنی اس گزری گرمی میں گئے لکھنؤ ہم خالہ کے گھر دیکھے طرح طرح کے منظر بھول بھلیاں ہم نے دیکھی جا کے نہ نکلے جس میں کوئی دیکھا حسین آباد کا پھاٹک دیکھا سنیما دیکھا ناٹک لاٹ شہیدوں والی دیکھی پارک گئے ہم ہاتھی والی کونسل چمبر دیکھا ہم نے زو بھی جا کر بھالو ...

مزید پڑھیے

دیوالی

ہر غم کو بھول جاؤ دوالی کی رات ہے آؤ دئے جلاؤ دوالی کی رات ہے ہر دیپ دے رہا ہے نئی صبح کا پیام اب تم بھی مسکراؤ دوالی کی رات ہے میں نے بھی کچھ چراغ محبت جلائے ہیں بچو قریب آؤ دوالی کی رات ہے چھوٹے بڑوں کا بھید نہ رکھو دلوں میں آج سب کو قریب لاؤ دوالی کی رات ہے ہنستا ہے یہ دوالی کا اک ...

مزید پڑھیے

ہولی

وفا کے پھول کھلاؤ بہار ہولی ہے نظر نظر سے ملاؤ بہار ہولی ہے ہنسو تو سب کو ہنساؤ بہار ہولی ہے دلوں کی پیاس بجھاؤ بہار ہولی ہے نظر سے دل میں سماؤ بہار ہولی ہے گلے سے سب کو لگاؤ بہار ہولی ہے وفا کا رنگ جماؤ بہار ہولی ہے ترانے پیار کے گاؤ بہار ہولی ہے نہ ہم سے روٹھ کے جاؤ بہار ہولی ...

مزید پڑھیے

سچی کہانی

دادی اماں جلدی آؤ آ کر ایک کہانی سناؤ آؤ بیٹھو پاس ہمارے شاہی شالو پپی دلارے اک بچہ تھا نیک اور اچھا دل کا صاف زباں کا سچا ماں سے اپنی کر کے منت سفر کی مانگی اس نے اجازت ماں نے رقم صدری میں سی کر کر دیا رخصت آنسو پی کر چلتے چلتے کی یہ نصیحت چاہے جتنی آئے مصیبت جھوٹ کبھی لب پر ...

مزید پڑھیے

ماں

بھولا بھالا اس کا چہرا اس کے سر ممتا کا صحرا اس کی آنکھیں پیار کی چھاگل ہونٹ اس کے چمکار سے کومل ہم جو ہنسیں وہ کھل جاتی ہے اس کو دنیا مل جاتی ہے روئیں ہم تو رو دیتی ہے اپنا ہر سکھ کھو دیتی ہے میری ذرا انگلی دکھتی ہے چوٹ اس کے دل پر لگتی ہے اپنے دل میں جھانک کے دیکھو بوجھو تو وہ کون ...

مزید پڑھیے

سکوت

سو رہی تھیں ندیاں اور جھک گئے تھے برگ و بار بجھ گیا تھا خاک کی نبضوں میں ہستی کا شرار چاندنی مدھم سی تھی دریا کی لہریں تھیں خموش بے خودی کی بزم میں ٹوٹے پڑے تھے ساز ہوش بھینی بھینی بوئے گل رقص ہوا کچھ بھی نہ تھا صحن گلشن میں اداسی کے سوا کچھ بھی نہ تھا اک حجاب تیرگی تھا دیدۂ بے دار ...

مزید پڑھیے

تیرے بغیر

آ کہ دل کی چاندنی روپوش ہے تیرے بغیر آ کہ ساز زندگی خاموش ہے تیرے بغیر عید ہو تم کو مبارک ہاں مگر میرے لیے زندگی کیا ہے وبال دوش ہے تیرے بغیر آ کہ زہر اب بادۂ سرجوش ہے تیرے بغیر ہے خزاں آلودہ صبح گلستاں تیرے بغیر خندۂ گل ہے طبیعت پر گراں تیرے بغیر جلوۂ سرو سمن میں اب کہاں وہ دل ...

مزید پڑھیے

حسن سر راہ

گزر رہا ہے ادھر سے تو مسکراتا جا کھلے نہیں ہیں جو غنچے انہیں کھلاتا جا تجھے قسم ہے سکوں آزما نگاہوں کی کسی غریب کی تقدیر کو جگاتا جا وہی نگاہ وہی اک تبسم رنگیں چراغ انجمن یاس کو بجھاتا جا جنوں نواز تری مست گامیوں کے نثار کمند ہوش و خرد سے مجھے چھڑاتا جا فریب خوردۂ بزم حیات ہوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 570 سے 960