لوہے کے جبڑے
تمہیں یاد ہوگا تم نے مجھے پچھلے برس خط میں اپریل بھیجا جو مجھ تک پہنچتے پہنچتے اگست ہو گیا لفظ پیلے پتوں کی طرح فرش پر بکھر گئے دسمبر کی سرد راتوں میں میں وعدوں کے آتش دان پر بیٹھی جاگتی رہی میری رگوں میں جما ہوا دسمبر آنکھوں سے پگھل کر بہتا رہتا ہے اس برس مجھے خط میں کچھ نہیں ...