شاعری

ہنوز یاد ہے

زہے نشاط زہے حسن اضطراب ترا نظر کی چھیڑ سے بجتا تھا جب رباب ترا نہ اب وہ کیف کی راتیں نہ وہ بہار کے دن کہ محو ناز نہ تھا حسن لاجواب ترا دم وداع وہ رنگیں اداسیاں تیری ہنوز یاد ہے وہ دیدۂ پر آب ترا وہ جھوم جھوم کے ابر بہار کا آنا وہ بجلیوں کی تڑپ اور وہ اضطراب ترا وہ ابتدائے محبت وہ ...

مزید پڑھیے

ترے لئے

پھر دل ہے آج غرق تمنا ترے لئے آ مضطرب ہے عشق کی دنیا ترے لئے وحشت برس رہی ہے گلستاں میں ہر طرف ہے چاک چاک دامن صحرا ترے لئے تیری نگاہ مست کی مشتاق ہے بہار ساغر میں ہے یہ لرزش صہبا ترے لئے مدت سے آرزوئے تماشا ہے سوگوار مدت سے محو درد ہے دنیا ترے لئے دل اور چشم شوق کی منزل کے درمیاں وا ...

مزید پڑھیے

پہاڑا

دو اکم دو دو دونا چار سب سے کرتے رہنا پیار دو تیاں چھ دو چوکو آٹھ یاد کرو تم اپنا پاٹھ دو پنجے دس دو چھک بارہ اچھا لڑکا سب کو پیارا دو ستے چودہ دو اٹھے سولہ باتوں میں امرت رس گھولا دو نوا اٹھارہ دو دہم بیس بن جاؤ تم دل کے رئیس استادوں کو شاد کرو اپنا پہاڑا یاد کرو

مزید پڑھیے

بادل

برکھا رت میں آتے ہیں بادل پانی بھر کر لاتے ہیں بادل آنگن آنگن برساتے ہیں کھیتوں کو تر کر جاتے ہیں پیاسی دھرتی کے ہونٹوں پر بھر جاتے ہیں امرت لا کر ورشا کے یہ دوت ہیں بادل کرتے ہیں دھرتی کو جل تھل پھولوں کو دیتے ہیں تبسم کوئل کو دیتے ہیں ترنم چم چم بجلی چمکاتے ہیں ایک کرن سی لہراتے ...

مزید پڑھیے

راوی کنارے

مست ہوا جب ساون کی انگڑائی لے کر آتی ہے اور فلک پر کالی کالی بدلی جب چھا جاتی ہے چھم چھم چھم چھم ننھی بوندیں اٹھلا کر جب آتی ہیں پریم کی ہلکی تانوں میں راوی کی لہریں گاتی ہیں بھیگے بھیگے ساون میں جب کوئل کوک سناتی ہے پائل کی جھنکاروں کی جب دھیمی آہٹ آتی ہے اس وقت کنارے راوی کے اک ...

مزید پڑھیے

سبب تباہی

خوب صورت شے ہر اک نکلی ہے تیری ذات سے ہی چھو کے شجروں کو گزرتی یہ ہوائیں اور ابرآلود رنگیں یہ فضائیں دریا میں اٹکھیلیاں کرتی یہ لہریں اور ساحل پر نکھرتی یہ شعاعیں جانتا ہوں ہو بہ ہو جنت ہے یہ سارے نظارے لیکن اک دن یہ نظارے ہی سبب ہوں گے تباہی کا جہاں کی زلف و چشم و عارض تیرے اور ...

مزید پڑھیے

چہرہ تیرا

سرد راتوں کا حسیں اک خواب ہے چہرہ ترا کیا کہوں بس منظر نایاب ہے چہرہ ترا نکہت گیسو کو تیری نکہت سنبل لکھوں تیرے نرم و نازک ان ہونٹوں کو برگ گل لکھوں آرزو پر یہ عرق لگتا ہے شبنم کی طرح اور سنی اس میں لٹیں لگتی ہے ریشم کی طرح جیسے کوئی گلشن شاداب ہے چہرہ ترا کیا کہوں بس منظر نایاب ...

مزید پڑھیے

ایک خواہش

ہم نے بھی چاہا تھا بہت کچھ ہم نے بھی کچھ مانگا تھا جو بھی چاہو سب مل جائے ایسا تو دستور نہیں

مزید پڑھیے

وہ ہمارا گھر

ہاتھ میں تابوت تھامے ان دنوں کے جن دنوں اس لالٹینوں کی گلی میں ہم نے مل کر اپنے مستقبل کے اس گھر کو سجایا لالٹینوں کی گلی کا آخری گھر تیرا میرا گھر دھوپ میں سہما کھڑا ہے جس کی چھت پر مکڑیوں کے جال میں الجھے سے خواب اپنے منتشر ہیں گھر کی دیواروں سے الجھی چینوٹیوں کی ماتمی سی کچھ ...

مزید پڑھیے

خوابوں کا مردہ گھر

تنہائی کو خواب کی دستک دیتے دیکھا دیکھا اک گنبد کے نیچے کھڑا ہوا ہوں سنتا ہوں خود کی آوازیں یہ آوازیں مجھ کو واپس لے جاتی ہیں خوابوں کے اس مردہ گھر میں جو بالکل تاریک پڑا ہے جس میں میرے ماضی کے کرداروں کے کچھ کفن پڑے ہیں ان لوگوں کے جو زینت تھے ان خوابوں کی لیکن ان کرداروں کی اب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 571 سے 960