ہنوز یاد ہے
زہے نشاط زہے حسن اضطراب ترا نظر کی چھیڑ سے بجتا تھا جب رباب ترا نہ اب وہ کیف کی راتیں نہ وہ بہار کے دن کہ محو ناز نہ تھا حسن لاجواب ترا دم وداع وہ رنگیں اداسیاں تیری ہنوز یاد ہے وہ دیدۂ پر آب ترا وہ جھوم جھوم کے ابر بہار کا آنا وہ بجلیوں کی تڑپ اور وہ اضطراب ترا وہ ابتدائے محبت وہ ...