شاعری

بچپن

نئی نئی دنیا لگتی تھی نئے نئے سے لوگ کھلتی کلیاں صبح سویرے کیسے مدھم مدھم حیرت ہوتی پھول پہ کیسے جم جاتی ہے شبنم چڑیوں کی آواز سناتی گھنگرو جیسی چھم چھم بارش کی بوندیں گرتیں پیڑوں پہ رم جھم رم جھم برگد کی داڑھی کو پکڑے بچے پینگ بڑھاتے کوے مینا کوئل چڑیاں مل کر شور مچاتے ماں کے ...

مزید پڑھیے

کاش میں ہوتا ایک پرندہ

کاش میں ہوتا ایک پرندہ کاش میں ہوتا ایک پرندہ جگہ جگہ کی سیر کو جاتا سب ملکوں کی خبر بھی لاتا جب تھک جاتا تب میں گاتا گاتے گاتے میں سو جاتا کاش میں ہوتا ایک پرندہ کالے بادل جب چھا جاتے گڑ گڑ گڑ کرتے آتے پانی کا پیغام سناتے تب میں میٹھی تان اڑاتا کاش میں ہوتا ایک پرندہ اپنے کو آزاد ...

مزید پڑھیے

طوائف اور افسر

اک طوائف نے کہا رات یہ اک افسر سے قابل عزت و توقیر ہوں میں یا تم ہو میں فقط بیچتی ہوں اپنا بدن اپنا شباب پیٹ کی بھوک مٹانے کے لئے بیٹھی ہوں وہ میں ہر روز نیا ہوتا ہے گاہک میرا اجنبی نام و نسب سے بھی مرے ناواقف ایک تم اتنے حریص اپنا بھی سودا کر دو ملک کا سودا کر دو قوم کا سودا کر ...

مزید پڑھیے

روز جزا

میں کہ سادہ تھا تہی دست تھا اور سچا تھا لوگ دیتے رہے دھوکے مجھ کو میں یہی سوچتا رہ جاتا تھا کیا نہیں روز جزا کیا انہیں خوف نہیں اپنے خدا کا کچھ بھی اور پھر ایسا ہوا ایک دن مجھ سے مرے دوست نے غصے سے کہا تو نے مجھے دھوکا دیا کیا قیامت کا تجھے خوف نہیں

مزید پڑھیے

لمس اول

یہ بھی کیا کم ہے کہ تو نے مجھے پہچان لیا وہ بھی کیا رات تھی جب تجھ سے ملاقات ہوئی سہمی سہمی سی نگاہوں میں ذرا بات ہوئی جب تری زلف پر افشاں سے ہوا آتی تھی دل کے تاریک بیابان مہک جاتے تھے تو نے گھبرا کے چھپائی تھیں جو اپنی آنکھیں جیسے دو ساغر رنگین کہیں چھلکے تھے جب مرا ہاتھ ترے ہاتھ ...

مزید پڑھیے

آنکھیں انگلیاں اور دل

راکھ ہی راکھ ہے اس ڈھیر میں کیا رکھا ہے کھوکھلی آنکھیں جہاں بہتا رہا آب حیات کب سے اک غار کی مانند پڑی ہیں ویراں قبر میں سانپ کا بل جھانک رہا ہو جیسے راکھ ہی راکھ ہے انگلیاں صدیوں کو لمحوں میں بدلنے والی انگلیاں شعر تھیں نغمہ تھیں ترنم تھیں کبھی انگلیاں جن میں ترے لمس کا جادو تھا ...

مزید پڑھیے

بھاگلپور-۴

کوئی سومناتھ کا مندر نہیں تھا اور نہ تلوار والے ہاتھ تھے غوریوں کے مگر لٹ گیا مرا شہر بس نام پر اجودھیا کے

مزید پڑھیے

بھاگلپور-۲

یہ تری شکل ہے کہ چاند کا روشن چہرہ یہ ستارے تری آنکھوں سے دمکتے کیوں ہیں یہ تری شوخ اداؤں سی سنکتی پروا جو مرے سر سے دوپٹے کو گرا دیتی ہے خشک بالوں کو ذرا اور اڑا دیتی ہے یہ تری یاد کے جگنو ہیں کہ شبنم قطرے جس سے بے خواب نگاہوں کی زمیں گیلی ہے کوئی آہٹ نہ ہی دستک کہ گلی سونی ہے گر ...

مزید پڑھیے

ہمیں خانوں میں مت بانٹو

ہمیں خانوں میں مت بانٹو کہ ہم تو روشنی ٹھہرے کسی دہلیز پر جلتے ہوئے شب بھر کسی کا راستہ تکتے چراغوں سے بھی آگے ہے جہاں اپنا اجالوں کی کمک لے کر اندھیرے کی صفوں کو چیر جاتے ہیں یہ جگنو چاند اور تارے ہماری صورتیں جیسے ہمیں خانوں میں مت بانٹو ہوا ہیں ہم بھلا دیوار و در میں قید کیا ...

مزید پڑھیے

بھاگلپور-۳

شاکاہاری گوشت مچھلی انڈے نہیں کھاتے کہ بھرشٹ نہ ہو جائے دھرم مگر کھیتوں میں ہماری لاشیں دبا کر سبزیاں اگاتے ہیں ہمارے ہی لہو کی نمی سے کرتے ہیں پٹون شاکاہاری مانساہاری جو نہیں ہوتے

مزید پڑھیے
صفحہ 540 سے 960