شاعری

خون

خون پانی نہیں رنگ و روغن نہیں پھر بھی تاریخ رنگین ہے خون سے اور صحیفے ہیں مہکے ہوئے خون سے خون سے تر ہے دامن ہر اک خون کا خون سب کی رگوں میں تو ہوگا ضرور پھر بھی کیوں خون کا اتنا پیاسا ہے خون خون پھر خون کا خون کرتا ہے کیوں

مزید پڑھیے

حرف غلط

لفظ تنہا کوئی معنی رکھتا نہیں اپنے معنی کی خاطر الفاظ کی بھیڑ میں خود کو کھونا پڑے گا ورنہ حرف غلط کی طرح صفحۂ دہر سے وہ بھی مٹ جائے گا

مزید پڑھیے

یاد ماضی

تنہائیٔ دل جب بڑھتی ہے جب یاس کی گہری تاریکی دنیائے دل پر چھاتی ہے چپکے سے تری یادوں کی کرن چلمن کو ہٹا کر آتی ہے اور دل مرا بہلاتی ہے تم دور ہوئی جوں ہی ہم سے یادوں کے شبستاں جاگ اٹھے پھر دل کی کلی مسکا نہ سکی اور گیت خوشی کے گا نہ سکی اک تم ہو ہم سے دور کہیں زر کار جھروکے میں ...

مزید پڑھیے

بے سایہ پیڑ

روز اڑا دے نیند تلخی بھرا اک خواب خواب کے پردے پر روز یہ فلم چلے ایک لق و دق دشت اس پہ کڑکتی دھوپ بار گراں بر دوش اک ننھی سی جان تشنہ تھکن سے چور اور فقط امید اک بے سایہ پیڑ

مزید پڑھیے

اینزائٹی

تیز بے ترتیب دھڑکن اور نفس پھولا ہوا زرد چہرہ اور پسینے سے بدن بھیگا ہوا جسم کے ہر انگ میں جیسے چبھے ہوں خار سے جس طرح اعصاب میں ہر دم رواں ہوں بجلیاں لمحہ لمحہ بے قراری بے یقینی وسوسے اے مری جاں جب نہیں ہوتی تو میرے سامنے تو مسلسل ایسی کیفیت ہی میں رہتا ہوں میں

مزید پڑھیے

سودا

تمہاری جیت کے بدلے میں خود کو ہار سکتا ہوں تمہارے اک اشارے پر میں خود کو وار سکتا ہوں اگر اک بار تم جاناں فقط اتنا کہو مجھ سے مجھے تم سے محبت ہے مجھے تم سے محبت ہے

مزید پڑھیے

دشت عمر

پار کرنا ہے مجھ کو دشت عمر میری منزل عدم ہے اس کے پار آگے کتنا طویل رستہ ہے اور کتنا کٹھن نہیں معلوم شوق منزل مجھے نہ ذوق سفر ہم سفر ہے نہ ہے کوئی رہبر اور ہر گام پر سراب کوئی ہے مری تشنگی بڑھانے کو چل رہا ہوں میں بے دلی کے ساتھ یہ سفر مجھ پہ ہے گراں لیکن میں اسے ترک کر نہیں سکتا میں ...

مزید پڑھیے

بھگوان کرشنؔ کی تصویر دیکھ کر

مجھے تیرے تصور سے خوشی محسوس ہوتی ہے دل مردہ میں بھی کچھ زندگی محسوس ہوتی ہے یہ تاروں کی چمک میں ہے نہ پھولوں ہی کی خوشبو میں تری تصویر میں جو دل کشی محسوس ہوتی ہے تجھے میں آج تک مصروف درس و وعظ پاتا ہوں تری ہستی مکمل آگہی محسوس ہوتی ہے یہ کیا ممکن نہیں تو آ کے خود اب اس کا درماں ...

مزید پڑھیے

پھر ملنا کیا نا ملنا کیا

برسوں کے بعد ملیں ہم تم اور بیتی گھڑیاں خواب لگیں نظروں سے ملیں نظریں لیکن دروازے دلوں کے بند رہیں بانہوں کو گلے میں ڈال کے بھی ملنے کی تڑپ باقی ہی رہے بے تابی ادھر بے مہری ادھر جب پیار کی باتیں بار لگیں آنکھوں سے لگے ساون کی جھڑی اور دل کی لگی کچھ اور بڑھے جب سینے سے لگ کر بھی ان ...

مزید پڑھیے

تم اور میں

تم وہ بادل ہو کہ آکاش پہ جب جھوم کے آئے چلے پروائی بھی موسم بھی سہانا ہو جائے کبھی گھنگھور گھٹا سرمئی اودی کالی کبھی اک روئی کا گالا کہ بس اڑتا جائے کبھی بجلی کی کڑک بن کے جلائے خرمن گڑگڑاتا کہیں بن برسے ہی گزرا جائے پانی تھم تھم کے پڑے رنگ دھنک کے بکھریں ہجر کی شام ڈھلے وصل کی رات ...

مزید پڑھیے
صفحہ 539 سے 960