شاعری

ہمیں مٹی ہی رہنے دو

گڑھو مت چاک پہ رکھ کے کوئی کوزہ صراحی یا گھڑا پیالہ تمہاری سوچ کے یہ نقش ہیں سارے تمہاری خواہشوں کے رنگ بھر دل کش ہمیں مٹی ہی رہنے دو ہمیں کب چاہیے ایسی عطا بخشی ہوئی صورت ہمیں مٹی ہی رہنے دو جو نم بارش سے ہو زرخیز ہو فصلیں اگاتی ہو ذرا سی بیج کو پودا بناتی ہو کہ وہ پودا شجر بن ...

مزید پڑھیے

ابھیشاپ

ہزاروں سال بیتے مری زرخیز دھرتی کے سنگھاسن پر براجے دیوتاؤں کے سراپے سانولے تھے مگر اس وقت بھی کچھ حسن کا معیار اونچا تھا ہمالہ کی حسیں بیٹی انہیں بھائی برندابن کی دھرتی پر تھرکتی ناچتی رادھا بسی تھی کرشن کے دل میں انہیں بھی حسن کی من موہنی مورت پسند آئی مگر ان کو خدا ہوتے ہوئے ...

مزید پڑھیے

بھاگلپور-۱

وہ مؤذن تھا ذرا سی دیر کو آ یا تھا اپنے گھر یہ کہنے کو کہ کوئی شور ہو دستک ہو دروازہ نہ کھولوگی دریچے بند رکھو گی ہوائیں شہر کی بدلی ہوئی ہیں یہی تاکید کر کے وہ واپس ہو گیا تھا اور اپنی کوٹھری میں بند اس کی کانپتی بیوی کلیجے سے لگائے ننھے بچوں کو کسی سہمی ہوئی چڑیا کی صورت پر سمیٹے ...

مزید پڑھیے

بھاگلپور-5

صرف ہمارا شہر ہی نہیں جلا جل گئی ہماری ریشمی تہذیب بھی اب ان ہی چنگاریوں سے رہ رہ کر سلگ اٹھتی ہے کومل من میں نفرت کی جوالا

مزید پڑھیے

نئی ابتدا

چلو آؤ چلیں چلیں پھر لوٹ کے واپس اسی اندھی گپھا میں ہم جہاں روشن ہوئی تھی آگ پہلے پہل کہ اب کالی ہواؤں سے بچاؤ کا یہی اک راستہ ہے چلو آؤ انہیں غاروں کی جانب پھر چلیں جاناں اور اندر کی برستی بارشوں میں جم کے بھیگیں بھیگتے جائیں ٹھٹھر جائیں ٹھٹھر کر سرد پڑتے جسم و جاں کو ہم اسی پہلے ...

مزید پڑھیے

معذوری

بہت سی نظمیں کہی تھیں میں نے لکھیں بھی لکھ لکھ کے پھاڑ ڈالیں جو شاید نازک طبع پہ تیری گراں گزرتیں کہ جانتی تھی وہ سارے موسم جو تیرے اندر ہیں آتے جاتے پرکھ چکی تھی میں تیرے دل کی تمام رت کو میں تیری سوچوں سے آشنا تھی اسی لیے تو بہت سی نظمیں کہی تھیں لیکن

مزید پڑھیے

بادبان

سمندروں کی نیلگوں فضائے آب میں بھی رقص کر چکا ہوں بارہا مرے لیے کوئی افق یہ آسماں کی وسعتیں بھی اجنبی نہیں میں ان میں سیکڑوں، ہزاروں زندگی کے گیت آتشیں دھنوں میں گا چکا کسی کو ڈھونڈ ہی رہا تھا، کون جانے کس کو ڈھونڈھتا تھا میں ہزار بار ڈھونڈھتا رہا ہوں جس کو موسموں کے مد و جزر ...

مزید پڑھیے

سلسلے سوالوں کے

ہزاروں صدیاں گزر چکی ہیں کسی سمے میں وہ تھی ست ونتی کہیں ساوتری کہیں تھی میرا ہر ایک یگ میں عقیدتوں کی لہر میں بھیگی تپسیا کے سحر میں گم سم روایتوں کے نشے میں ڈوبی تمہارے قدموں کی گرد کو وہ تلک بناتی دئے جلاتی تھی نقش پا پر جنم جنم کا اٹوٹ رشتہ نباہے جاتی ہزاروں صدیوں سفر کیا ...

مزید پڑھیے

یہ درد اب کے سوا ہے حد سے

وہ درد بھی تھا سوا حدوں سے تمہاری آمد کا جس میں مژدہ چھپا ہوا تھا وہ درد رگ رگ کی چیخ بن کر صدا ہوا تھا تو آنکھ خوشیوں سے نم ہوئی تھی زباں سے شکر خدا تھا نکلا زمیں کا ٹکڑا جو زیر پا تھا ہوا تھا جنت کہ اپنی تکمیل پر ہوئی تھی میں سر بہ سجدہ مگر مری جاں وہ خواب موسم گزر چکا ہے ہزار راتوں ...

مزید پڑھیے

بادل آج کئی دنوں کے بعد رویا

دور گگن میں کہیں تھا اب تک کھویا بادل آج کئی دنوں کے بعد رویا بادل روتا میں مسکراتا ہوں وہ غم بتاتا میں خوشیاں مناتا ہوں بادل کے آنسو نے سارہ جگ بھگویا بادل آج کئی دنوں کے بعد رویا اب بادل روتا میں ہنستا نہیں تھا اس کے آنسو پر مزہ کستا نہیں تھا بادل کے آنسو نے ہریالی کا منظر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 541 سے 960