ہمیں مٹی ہی رہنے دو
گڑھو مت چاک پہ رکھ کے کوئی کوزہ صراحی یا گھڑا پیالہ تمہاری سوچ کے یہ نقش ہیں سارے تمہاری خواہشوں کے رنگ بھر دل کش ہمیں مٹی ہی رہنے دو ہمیں کب چاہیے ایسی عطا بخشی ہوئی صورت ہمیں مٹی ہی رہنے دو جو نم بارش سے ہو زرخیز ہو فصلیں اگاتی ہو ذرا سی بیج کو پودا بناتی ہو کہ وہ پودا شجر بن ...