شاعری

چلنا ہے تب تک

چلنا ہے تب تک پیروں کی تھکن ٹوٹ کر چور نہ کر دے پیروں تلے روند کر اپنے ہی چھالوں کو دھول نہ کر دے کڑی دھوپ جھلسا بھی دے اگر کالی دھند بکھرا بھی دے اگر اکھڑتی سانس جب تک چھوڑ نہ دے ساتھ آخری آس جب تک چھوڑ نہ دے ہاتھ چلنا ہے تب تک جب تک بچا ہے جسم کی مٹی میں ایک بھی بیج جو بن سکتا ہے ...

مزید پڑھیے

کشش

خوشبو کبھی جب بکھرے رجنی گندھا مسکراتے ہیں پیمانوں سے چھلک کر نگاہوں میں جھلملاتے ہیں گزرتے لمحات یادوں کی کترنیں جوڑ کر کولاژ بنا لیتے ہیں خوب ہے احساس کی کاریگری چلتی آتی ہے انہی در و دیواروں سے گفتگو کرنے کشش ہے کوئی یا کوئی ناطہ ہے صدیوں کا جس سے گلے لگ کر دم بھر کو خود کو ...

مزید پڑھیے

قربت

فراق کے لمحے دم توڑتے آغوش میں یادیں سانس لیتیں احساسوں میں اور مسلسل دھڑکتا رہتا ہے کوئی سینے میں

مزید پڑھیے

جلسہ

شامیانوں کے اندر مسکراہٹیں ہر ایک چیز پہ چسپاں ہیں رنج و غم کا کہیں بھی نشاں نہیں خوبصورت لباسوں میں لپٹے ہوئے خاص و عام لوگ خوشی کا ملمع چڑھائے خوب بڑھا رہے ہیں جلسے کی رونق

مزید پڑھیے

ماہ کامل

ایک ماہ کامل ہے میرا اس کائنات میں جس کی روشنی میں جگمگاتا ہے میرا عکس منور ہیں میری راہیں نور اس کا ہے پر سکون وہ تجلی ہے راہ حیات کی اس کی نرم و نازک شعاعوں سے کوئے دل میں اجالا ہے میرے ماہ کامل کو میرے مولیٰ محفوظ رکھنا

مزید پڑھیے

نشان

طبیعت تو خوب پائی ہے لہروں نے چٹانوں پہ سر پٹک کے دم توڑنے کی ان کی فطرت کا کمال تو دیکھو بارہا ٹوٹ کر بھی سنگ دل کے سینے پر آخر اپنے وجود کا نشان چھوڑ جاتی ہیں

مزید پڑھیے

لفظ

لفظوں کے ہتھیار سنبھل کر کیجیئے استعمال ذرا چوکے تو حدیں ساری ٹوٹ جائیں گی چکنا چور ہو جائیں گے رشتوں کے گلدان رہیں ہوشیار کر دے نہ کوئی وار بڑے جان لیوا ہوتے ہیں یہ لفظوں کے ہتھیار

مزید پڑھیے

آج اور کل

آس پاس سانس لیتی زندگی امن چین کی چاہت میں اڑتے پرندے گھر آنگن میں ہریالی کے سائے تازہ بہتی ہوائیں روزمرہ زندگی کی چھوٹی چھوٹی امیدیں بہت کچھ باقی ہے ابھی نئے سرے سے دنیا کو سجانے سنوارنے کے لئے اپنے آج کو سنبھال کر اور خوب صورت بنانے کے لئے

مزید پڑھیے

میں

تیری گفتگو میں ایک جستجو ہے جو میرے روبرو ہے میرا ہو بہ ہو ہے میرا میں اور تیرا میں دراصل یہی تو دونوں کا عدو ہے چلو اس میں کا فاصلہ مٹا دیں مگر میں کی اس انا میں قید ہمارے وجود کو یہ فیصلہ منظور کب ہے

مزید پڑھیے

ہجر

ہجر میں بھی فرقت کا گماں ہونے نہیں دیتا رہتا ہے وہ خیالوں میں اتنے قریب کہ وصل کی صورت میں دھلنے لگتا ہے اس کا احساس

مزید پڑھیے
صفحہ 529 سے 960