چلنا ہے تب تک
چلنا ہے تب تک پیروں کی تھکن ٹوٹ کر چور نہ کر دے پیروں تلے روند کر اپنے ہی چھالوں کو دھول نہ کر دے کڑی دھوپ جھلسا بھی دے اگر کالی دھند بکھرا بھی دے اگر اکھڑتی سانس جب تک چھوڑ نہ دے ساتھ آخری آس جب تک چھوڑ نہ دے ہاتھ چلنا ہے تب تک جب تک بچا ہے جسم کی مٹی میں ایک بھی بیج جو بن سکتا ہے ...