چلنا ہے تب تک

چلنا ہے تب تک
پیروں کی تھکن ٹوٹ کر
چور نہ کر دے
پیروں تلے روند کر
اپنے ہی چھالوں کو
دھول نہ کر دے
کڑی دھوپ جھلسا بھی دے اگر
کالی دھند بکھرا بھی دے اگر
اکھڑتی سانس جب تک
چھوڑ نہ دے ساتھ
آخری آس جب تک
چھوڑ نہ دے ہاتھ
چلنا ہے تب تک
جب تک بچا ہے
جسم کی مٹی میں
ایک بھی بیج
جو بن سکتا ہے درخت
ایک بھی لمحہ
جو بدل سکتا ہے وقت
بچی ہوئی ایک کرن
جو لا سکتی ہے اجالا
جمی ہوئی ایک بوند
جو بن سکتی ہے دھارا
ساتھ یقین ہے جب تک
چلنا ہے تب تک