کشش
خوشبو کبھی جب بکھرے
رجنی گندھا مسکراتے ہیں
پیمانوں سے چھلک کر
نگاہوں میں جھلملاتے ہیں
گزرتے لمحات
یادوں کی کترنیں جوڑ کر
کولاژ بنا لیتے ہیں
خوب ہے
احساس کی کاریگری
چلتی آتی ہے
انہی در و دیواروں سے
گفتگو کرنے
کشش ہے کوئی
یا کوئی ناطہ ہے صدیوں کا
جس سے گلے لگ کر
دم بھر کو
خود کو بھلا دیتے ہیں