نشان

طبیعت تو خوب
پائی ہے لہروں نے
چٹانوں پہ
سر پٹک کے
دم توڑنے کی
ان کی فطرت کا
کمال تو دیکھو
بارہا ٹوٹ کر بھی
سنگ دل کے
سینے پر
آخر اپنے
وجود کا نشان
چھوڑ جاتی ہیں