کاش
ہم سب کے ساتھ جڑا ہے ایک کاش زندگی مکمل ہو کر بھی کیوں چھوڑتی چلتی ہے ادھورے پن کے نشاں کوئی کمی کوئی حسرت نا مکمل سی کاش کا کلمہ پڑھتی
ہم سب کے ساتھ جڑا ہے ایک کاش زندگی مکمل ہو کر بھی کیوں چھوڑتی چلتی ہے ادھورے پن کے نشاں کوئی کمی کوئی حسرت نا مکمل سی کاش کا کلمہ پڑھتی
قلم بھی تڑپ اٹھا قرطاس پہ لکھنے سے پہلے لہولہان حرف ہو گئے برف اف سرد احساس امیدوں کو مار نہ ڈالے کہیں گھائل پروں کے ساتھ یہ حسرتیں اڑنے سے باز نہیں آتیں اور آخر کار لڑکھڑاتی پرواز جبین فلک چوم لیتی ہے
شب طویل تھی پر کٹ گئی نامراد وقت تھوڑی سی مروت کر گیا جینے کے لئے چند حسین لمحے تاریکیوں میں منور کر گیا
بہت خوبصورت خوش نما ہنستے مسکراتے گاتے گنگناتے وہ دھڑکتے لمحے جیتے جاگتے لمحے یک بیک ایک دن ہو گئے روبرو پرانی کتاب کے پنے میں دبے ہوئے لیکن یہ کیا تازہ گلابوں سے بھی زیادہ مہک رہے تھے یہ ان سوکھے ہوئے پھولوں سے آ رہی تھی گزرے ہوئے پلوں کی تازہ خوشبو
یہ یادیں یہ باتیں یہ آدھی سی ملاقاتیں بہت روحانیت ہے ان میں ایک معصومیت ہے ان میں یہ لمحۂ الفت آیا ہے بعد مدت بس دعا ہے یہی یہ کھو نا جائے کہیں رہے سدا سدا یہ وفا یہ ادا یہ صدا
کیسی محبت ہے لکھا قسمت میں جس کے تمام عمر کا ہجر کم کیسے ہو لگن جب دل ہی خود پرستار ہو جائے اور یہ دل کی لگی پرستش ہو جائے
ایک عمر دراز چہرہ پیس میکر سے دھڑکتا ہوا دل آنکھ کی دھندلاتی روشنی زندگی کی چمک پورے کنبے کا جغرافیہ اپنے ارد گرد سمیٹے زندگی کی شام کو یادوں میں لپیٹے عمر کی لکیروں میں تجربے کی چمک کسی فرشتے کی طرح ایک بزرگ کا سایہ گھر میں ٹہلتا ہے اپنے دھیمے قدموں سے چہل قدمی کرتے ہوئے سب کی ...
روشنی ہے وہ وہ دھوپ ہے کھلتی ہوئی جلتی ہوئی اک لوہے اپنی روشنی سے خود راہ میں اجالا کرتی آندھیوں سے اندھیروں سے اسے خوف نہیں کانپتی لو کو تھرتھرا کے سنبھلنے کا ہنر آتا ہے اس لو نے ہر سمت مشعل بن کر دکھایا ہے اپنا جوہر کتنے کمال کر کے دیکھنا اک دن یہ بد گمان دنیا مانے گی اس کی ...
بے قصور آہیں کر رہیں سوال معصومیت کیوں ہوئی ہلاک تلخ ہے جواب کون ہے ذمے دار بدلتے حالات مذہبی دیوار قانونی لوچ یا ہماری سوچ
زندگی عجب ہے پھر بھی اپنے پاس موت کو پھٹکنے نہیں دیتی جب کہ ہاتھ محروم ہیں روزگار سے پیٹ دانے سے اور سر آسرے سے سخت جان زندگی ہزار بار مر کر بھی زندہ رہتی ہے امید کے اجالوں میں اونچی اڑانوں میں اپنے آپ سے جھنجھتی ہوئی کہ حقیقت میں جسے کہتے ہیں زندگی ہمیں بھی حاصل ہو گئی کبھی تو بس ...