یاد

رات تک
خیالوں میں
یادوں کا قافلہ
کبھی جگاتا رہا
کبھی تھپکی دے کر
سلاتا رہا
آخر دھڑکنوں کا ساز
خوابیدہ آغوش میں
ڈوبتا چلا گیا