زہر خدیجہ خان 07 ستمبر 2020 شیئر کریں چھپک کی آواز کے ساتھ ذہن کے پانیوں میں گرتا ہے لفظوں کا پتھر بنتے بگڑتے احساسوں کے گھیرے مٹ جائیں گے بنا کوئی نشان چھوڑے مگر یہ زہر آلودہ پتھر پڑے رہیں گے یوں ہی ذہن کی تلہٹیوں میں رینگتے اپنی ہی طرح زہر آلودہ