تشنگی

دل کی تپش
سینے کی خلش
جوش جگر
ہوش نظر
حسن و عشق
مال و رزق
لبوں پہ جب بھی
ان کا ذکر آیا
اے تشنگی نام تیرا
پھر ان کے ساتھ ضرور آیا