شاعری

عید کا دن

زہے قسمت ہلال عید کی صورت نظر آئی جو تھے رمضان کے بیمار ان سب نے شفا پائی پہاڑوں سے وہ اترے قافلے روزہ گزاروں کے گیا گرمی کا موسم، اور آئے دن بہاروں کے اٹھا ہوٹل کا پردہ، سامنے پردہ نشیں آئے جو چھپ کر کر رہے تھے احترام حکم دیں آئے ہوئی انگور کی بیٹی سے ''مستی خان'' کی شادی کھلے در مے ...

مزید پڑھیے

زباں جس کو ہر اک بولے اسی کا نام ہے اردو

زباں جس کو ہر اک بولے اسی کا نام ہے اردو زبان شعر میں فطرت کا اک انعام ہے اردو سبھی اس کو سمجھتے ہیں سبھی میں عام ہے اردو زباں کوئی بھی ہو ہر ایک کا انجام ہے اردو گئے وہ دن کہ جب کچھ لوگ ہی اس کو سمجھتے تھے زبانوں میں ابھر آئی ہے طشت از بام ہے اردو کہیں ہے ابتدا اس کی کہیں ہے انتہا ...

مزید پڑھیے

کھوئی ہوئی نظم

میں گھر کے پتے کی ایک پرچی ہر صبح ان کی جیب میں رکھ دیتا ہوں کسی کو کہیں مل جائے میری گم ہو گئی کوئی نظم تو مجھے بتا دینا میری نظمیں سیر کرتی ہیں اکیلی شہر میں اب

مزید پڑھیے

اندھیروں کی بارش

صبح ہونے سے ذرا پہلے میری رات ملتی ہے مجھے پاؤں جمع کے چلتی ہوئی اندھیرے میں شرابور آنچل سے اندھیرے نچوڑتی ہوئی میرے گھر کے موسم سے کوئی شکایت سی کرتی ہوئی میں اسے دلاسا دیتا ہوں بارش کا موسم جانے کو ہے

مزید پڑھیے

تلاش

یہ جو تیری تلاش میں نکلتا ہوں میں سیاہ اندھیری راتوں میں ایک کاغذ پہ لکھ کے نام تیرا تو لوگ پہچانتے نہیں تمہیں جانتے نہیں تیری خوشبو کی چھڑی پکڑ کے چل کے ساری رات میں تاروں پہ اپنا پتا چھوڑ آتا ہوں کبھی گزرو تو پڑھ لینا سنا ہے وہیں پہ رہتے ہو تم

مزید پڑھیے

خط

اس کا خط آیا ہے میرے پتے پر لکھا ہے یہ جو میں نام اس کا انگلی سے تکیے پہ لکھ اپنی لمبی راتیں رکھ دیتا ہوں اس پہ تو دم گھٹتا ہے اس کا اور اس کو نیندیں نہیں آتی

مزید پڑھیے

نیندوں میں

خوابوں کی چادر تلے تیری خوشبو کو لوریاں سناتا ہوں گھر میں سب کہتے ہیں میں نیندوں میں گنگناتا ہوں لفظ مچلتے ہیں سرہانے میں نظمیں بنتا رہتا ہوں گھر میں سب کہتے ہیں میں نیندوں میں مسکراتا ہوں

مزید پڑھیے

نیند

کچھ بھاری سے سوال آنکھوں میں لیے میں راتیں کچلتا رہتا ہوں پوری رات خواب جھگڑتے رہتے ہیں تکیے پہ میرے راتیں کراہتی رہتی ہیں سرہانے نیند آتی ہے دیر سے اب

مزید پڑھیے

زمیں

زمیں ہے تو تاروں کی ہم سے یہ دوری ہے زمیں ہے تو میری اور تیری یہ مجبوری ہے یہ زمیں ہے تو میں کہنیوں پہ چلتا ہوں زمیں ہے تو تمہیں چھونے کو ترستا ہوں یہ زمیں ہے تو ہے یہ آسمان اڑنے کے لیے زمیں ہے تو کچھ تو ہے تیرے گرنے کے لیے یہی سوچ کے کہ تم برسو گے کبھی ایک دن بنا چھت کے ایک مکان ...

مزید پڑھیے

ہلکی پھلکی لکھائی

دھول میں لپٹی دبلی سی ہلکی پھلکی میری یہ لکھائی کیا ہوا جو مہنگے کپڑے نہیں پہنتی کسی کے بنائے ہوئے رستے پہ نہیں چلتی ذرا سا منہ دھو لے اگر ٹھوکروں سے بھر کے پیٹ اپنا تھوڑا میٹھا بھی کھا لے اگر تو اسے بھی مہنگے کپڑے دلا دیں گے ہم کوئی نام دے دیں گے اسے اک دن صاف ستھرے کسی رستے پہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 484 سے 960