کھوئی ہوئی نظم

میں گھر کے پتے کی ایک پرچی
ہر صبح
ان کی جیب میں رکھ دیتا ہوں
کسی کو کہیں مل جائے
میری گم ہو گئی کوئی نظم
تو مجھے بتا دینا
میری نظمیں سیر کرتی ہیں اکیلی
شہر میں اب