خط

اس کا خط آیا ہے میرے پتے پر
لکھا ہے
یہ جو میں نام اس کا انگلی سے
تکیے پہ لکھ
اپنی لمبی راتیں رکھ دیتا ہوں اس پہ
تو دم گھٹتا ہے اس کا
اور اس کو نیندیں نہیں آتی