شاعری

ناف پیالہ

رات اک نیلے خواب میں میں نے پانی کی آمیزش سے گوندھے گئے گندمی رنگ میں اپنی محبوبہ کے جیسے دو نیم برہنہ جسم ہیں دیکھے پہلا خوشی کا دوجا غم کا صورت قامت اور بدن کے خد و خال بھی اک جیسے تھے بس دونوں میں ایک فرق تھا غم کے جسم میں پایا میں نے اک گہرا سا ناف پیالہ

مزید پڑھیے

آئینہ

میں نے اک سپنا دیکھا ہے رات کا سورج اپنی کالی زلفیں کھولے جاگ رہا ہے شہر میں سناٹا پسرا ہے چاند کی اجلی چادر تانے میں اپنے گھر میں سویا ہوں اتنے میں اک شور ہے اٹھتا شب خوں مارا شب خوں مارا دیکھو شیطاں پھر آ نکلے میں نے بھی سب اپنی متاع زہد و تقویٰ صبر و قناعت اور اعمال کی سونا ...

مزید پڑھیے

الگنی

ایک ہی پل میں اچٹ جاتی ہے یہ نیند مری ایک بجلی سی چمک جاتی ہے ان آنکھوں میں یک بیک تیز پھواریں جوں برس جاتی ہوں اور آنگن میں سکھانے کے لیے سب کپڑے تر بتر ہو کے لپٹ جاتے ہیں اک ڈوری سے ان کو موجود ہے اک ڈور بدن کی مانند تھرتھراتی ہوئی آتی ہے چلی جاتی ہے پر ہوا ان کو جدا کر نہیں سکتی ...

مزید پڑھیے

پانی

کل رات جب اپنی زلفیں فضا میں بکھرا چکی تھی اور تھکا ہوا عالم اس کے گداز ابھاروں سے لپٹا سو رہا تھا میں بے خوابی کا مارا اپنے کمرے میں اس کی پنڈلیاں سہلا رہا تھا باتھ روم میں پانی کی اک ٹوٹی سے ٹپ ٹپ کی آواز آ رہی تھی میں نے سوچا پانی تو وقت کی علامت ہے یہ باتھ روم میں بوند بوند گر ...

مزید پڑھیے

میراث

میں نے اپنے آبا کی کتابوں کو کاٹھ کی اونچی اور مضبوط المایوں سے نکال کر خوب پڑھا ہے ان کی خوشبو سونگھی ہے ان کی دھولوں کو چاٹا ہے اپنی نوک زباں سے اکثر اور ورق کے بائیں اور نیچے کی جانب پان کی پیک سے گیلا کر کے پلٹے گئے صفحوں پر ان کی شہادت کی انگلیوں کے نشاں پائے ہیں

مزید پڑھیے

نعم البدل

مجھے معلوم ہے کہ کچھ نہ بدلے گا نہ شاخ ہجر پر آثار آئیں گے خزاؤں کے خیالوں کے سمندر میں نہ کچھ تبدیلی آئے گی نہ کرداروں کے روز و شب میں کوئی فرق آئے گا مگر ان نظموں غزلوں کی کہانی اور گیتوں کی آتی جاتی لہروں سے یہ میرا خشک ساحل سیراب تو ہوتا رہے مجھ کو میرے ہونے کا احساس تو ہوتا ...

مزید پڑھیے

کل سے تم اخبار نہ لانا

صبح صبح اچھا لگتا ہے گھر سے نکل کر سیر کو جانا ٹھنڈی ٹھنڈی نرم ہواؤں کے ساگر میں منہ کو دھونا اور تر و تازہ ہو جانا لان میں بوگین ویلیا کی ڈالی پہ بلبل کا اترانا پھدک پھدک کر جھولے جانا لیکن جب اتنی ہی دیر میں مین گیٹ پر آ کر کوئی کاغذات کچھ دے جاتا ہے جن کے تحریری خنجر سے بیلے کی ...

مزید پڑھیے

نیند کا پھیر

میری آنکھوں نے نئے نئے خوابوں کو تو دعوت دے دی ہے سو اپنے ہاتھوں کو پھر سے جنبش دوں گا جن پر آ کر ٹوٹ چکے ہیں نا جانے کتنے ہی حباب نیند کے پھیر نے کیا کر ڈالا جاگتی آنکھوں سے میں اب یہ سوچ رہا ہوں کیا ہوگا جب پلکوں پر مہمان آئیں گے میرے پاس سوائے وہی پرانے خوابوں کی روکھی سوکھی ...

مزید پڑھیے

خاموشی سے ایک مکالمہ

خاموشی سے پوچھا میں نے کیوں آتی ہے پاس تو میرے آخر کیوں سمٹی رہتی ہے کیا رکھا ہے کیا ملتا ہے تجھ کو یہاں پر کچھ نہیں بولی چپ سی رہی اور دور تلک پھر پھیل گئی وہ

مزید پڑھیے

مراجعت

شہروں کے شفاف بدن اور تہذیبوں کے سینوں پر نیلی برا میں لپٹی متمدن چھاتیوں میں جتنی کشش ہے اتنا دودھ نہیں ہے چاند رنگ ڈھلوانوں پر انسانوں کے آنسوؤں کا ایک بھی قطرہ ٹھہر نہیں سکتا ہے آ کر تو پھر ہم سب کیوں نہ چل کر صحرا میں ہی رہا کریں اب

مزید پڑھیے
صفحہ 483 سے 960