شاعری

چاند کی کھیتی

اس برس کاروبار اچھا ہوگا میری چاند کی کھیتی لگتا ہے بہتر ہوگی لوگوں سے سنا ہے اس بار اندھیرے زیادہ برسیں گے

مزید پڑھیے

کرائے کے خواب

اب تو اس بازار میں خوابوں کی ایک دوکان دکھائی دیتی ہے ٹنگے رہتے ہیں کئی خوب صورت سے خواب اٹھا کر چہرے پہ لگا لو اور جی لو اسے یہ خواب جو ٹنگے رہتے ہیں اس دوکان میں ان کو وہیں اتار کے واپس رکھنا پڑتا ہے کرایہ لگتا ہے ان کو جینے کا یہ خواب کسی کی جیبوں میں نہیں سماتے

مزید پڑھیے

پہرے داری

دھڑکنیں مچلتی ہیں سینے میں سانسوں کو پہرے پہ بٹھا رکھا ہے ہچکیاں نہ جانے کب دستک دے دیں خواہشوں کا پھندا گلے سے نکلتا ہی نہیں

مزید پڑھیے

جس بھی روح کا

جس بھی روح کا گھونگھٹ سرکاؤ۔۔۔ نیچے اک منفعت کا رخ اپنے اطمینانوں میں روشن ہے ہم سمجھتے تھے گھرتے امڈتے بادلوں کے نیچے جب ٹھنڈی ہوا چلے گی دن بدلیں گے لیکن اب دیکھا ہے گھنے گھنے سایوں کے نیچے زندگیوں کی سلسبیلوں میں ڈھکی ڈھکی جن نالیوں سے پانی آ آ کر گرتا ہے سب زیر زمین نظاموں ...

مزید پڑھیے

عورت

تو پریم مندر کی پاک دیوی تو حسن کی مملکت کی رانی حیات انساں کی قسمتوں پر تری نگاہوں کی حکمرانی جہان الفت تری قلمرو حریم دل تیری راجدھانی بہار فطرت ترے لب لعل گوں کی دوشیزہ مسکراہٹ نظام کونین تیری آنکھوں کے سرخ ڈوروں کی تھرتھراہٹ فروغ صد کائنات تیری جبین سیمیں کی ضو فشانی بھڑکتے ...

مزید پڑھیے

ایک شام

ندی کے لرزتے ہوئے پانیوں پر تھرکتی ہوئی شوخ کرنوں نے چنگاریاں گھول دی ہیں تھکی دھوپ نے آ کے لہروں کی پھیلی ہوئی ننگی بانہوں پہ اپنی لٹیں کھول دی ہیں یہ جوئے رواں ہے کہ بہتے ہوئے پھول ہیں جن کی خوشبوئیں گیتوں کی سسکاریاں ہیں یہ پگھلے ہوئے زرد تانبے کی چادر پہ الجھی ہوئی سلوٹیں ...

مزید پڑھیے

کبھی کبھی تو زندگیاں

کبھی کبھی تو زندگیاں کچھ اتنے وقت میں اپنی مرادیں حاصل کر لیتی ہیں جتنے وقت میں لقمہ پلیٹ سے منہ میں پہنچتا ہے۔۔۔ اور اکثر ایسی مرادوں کی تو پہنچ بھی لقموں تک ہوتی ہے اور جب ایسی منزلیں بارور ہوتی ہیں تو شہر پنپتے ہیں اور گاؤں پھبکتے ہیں۔۔۔ اور تہذیبوں کی منڈیوں میں ہر جانب ...

مزید پڑھیے

ایکسیڈنٹ

مجھ سے روز یہی کہتا ہے پکی سڑک پر وہ کالا سا داغ جو کچھ دن پہلے سرخ لہو کا تھا اک چھینٹا چکنا گیلا چمکیلا چمکیلا مٹی اس پہ گری اور میلی سی اک پیڑھی اس پر سے اتری اور پھر سیندوری سا اک خاکہ ابھرا جو اب پکی سڑک پر کالا سا دھبہ ہے پسی ہوئی بجری میں جذب اور جامد ان مٹ مجھ سے روز یہی کہتا ...

مزید پڑھیے

جن لفظوں میں

جن لفظوں میں ہمارے دلوں کی بیعتیں ہیں کیا صرف وہ لفظ ہمارے کچھ بھی نہ کرنے کا کفارہ بن سکتے ہیں کیا کچھ چیختے معنوں والی سطریں سہارا بن سکتی ہیں ان کا جن کی آنکھوں میں اس دیس کی حد ان ویراں صحنوں تک ہے کیسے یہ شعر اور کیا ان کی حقیقت نا صاحب اس اپنے لفظوں بھرے کنستر سے چلو بھر کر ...

مزید پڑھیے

امروز

ابد کے سمندر کی اک موج جس پر مری زندگی کا کنول تیرتا ہے کسی ان سنی دائمی راگنی کی کوئی تان آزردہ آوارہ برباد جو دم بھر کو آ کر مری الجھی الجھی سی سانسوں کے سنگیت میں ڈھل گئی ہے زمانے کی پھیلی ہوئی بیکراں وسعتوں میں یہ دو چار لمحوں کی میعاد طلوع و غروب مہ و مہر کے جاودانی تسلسل کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 485 سے 960