زمیں

زمیں ہے تو تاروں کی ہم سے یہ دوری ہے
زمیں ہے تو میری اور تیری یہ مجبوری ہے
یہ زمیں ہے تو میں کہنیوں پہ چلتا ہوں
زمیں ہے تو تمہیں چھونے کو ترستا ہوں


یہ زمیں ہے تو ہے یہ آسمان اڑنے کے لیے
زمیں ہے تو کچھ تو ہے تیرے گرنے کے لیے
یہی سوچ کے کہ تم برسو گے کبھی ایک دن
بنا چھت کے ایک مکان میں
میں زمیں پہ رہتا ہوں