یہ خدمت جناب
لٹے ہوئے قدیم قافلوں کے مرثیے ہو تم مری ہر ایک سانس میں غزل کی اک کتاب ہے کنویں کے مینڈکو سنو مری نظر میں گہرے نیلے پانیوں کے خواب ہیں
لٹے ہوئے قدیم قافلوں کے مرثیے ہو تم مری ہر ایک سانس میں غزل کی اک کتاب ہے کنویں کے مینڈکو سنو مری نظر میں گہرے نیلے پانیوں کے خواب ہیں
ہم خداؤں کے نازک بدن کے لیے باعث درد ہیں عشق جیسا جہنم بھی ہم سے ملا بجھ گیا برف ہیں سرد ہیں
میں نے چاہا تھا کوئی اجالے سا ہاتھ میری انگلی پکڑ کر مجھے آگے بڑھنا سکھائے مدرسوں دفتروں شاہراہوں مکانوں دوکانوں تلک لے چلے لیکن ایسا ہوا جس جگہ آنکھیں کھولی تھی میں نے وہاں ہاتھ سارے روٹی بنانے پہ مامور تھے خوف آتا تھا گھر سے نکلتے ہوئے ڈگمگاتے قدم گنگ الفاظ بے بس نگاہیں ...
سورج کے قاتل دھوپ سینکنے کہاں جائے گی پالا ماری سارا بدن بدن جائے گا ان کا بھی جنہوں نے بس تماشہ دیکھا کہا کچھ نہیں نہ سورج سے نہ اندھیرے سے
ہم نے گھر بنانے کے نا مراد چکر میں تیلیاں بچائی ہیں انگلیاں جلائی ہیں
اندھیرا میرے سینے سے نکل کر پھیلتا ہے چار سو تو رات ہوتی ہے یہاں سورج کے اگنے ڈوبنے سے کچھ نہیں ہوتا
وہ عشق ہے جو سفید بالوں پہ ہونٹ رکھے سنہرا کر دے
میں نے خون آلود کپڑے تب دھوئے ہیں جب مجھے معلوم نہیں تھا کہ خون سے بچے بنتے ہیں اور بچوں کو جمہوری ممالک دریافت کرتے ہیں اور کاروں میں تیل کی جگہ استعمال کرتے ہیں
لوگ مرے کھوٹے سکے جب گلے میں ڈال کر اتراتے ہیں ہنس دیتی ہوں ہنستے ہنستے آنکھوں میں آنسو آتے ہیں
ماں مجھے لوری سنا لوری جو تیرا فرض ہے اور بیس برسوں سے ترے ہونٹوں پہ میرا فرض ہے بیس برسوں سے میں سکھ کی نیند سو پایہ نہیں میرے زخمیدہ پپوٹوں کو کسی لمحے نے سہلایا نہیں میرے چاروں سمت ٹھہری رات جلتی جنگ کے میدان میں لاشوں پٹے کھلیان ہیں رستوں بھرے سارے نگر ویران ہیں اور میں کسی ...