شاعری

شرط رفاقت

تم مرے پاس رہو ساتھ رہو اور یہ احساس رہے میں کہ آزاد ہوں جینے کے لئے اور زندہ ہوں خود اپنے اندر اپنی ہی ذات میں تابندہ ہوں اپنی ہر سانس پہ قبضہ ہے مرا اپنی پاکیزہ تمناؤں کی تکمیل کا حق ہے مجھ کو اپنے معصوم سے جذبات کی ترسیل کا حق ہے مجھ کو یہ زمیں میری بھی یہ دشت و چمن میرے بھی صرف ...

مزید پڑھیے

ابھی کچھ اور

ابھی کچھ اور سانسیں رہ گئی ہیں ابھی کچھ اور رسالوں تک مجھے گننا ہے ان کو ابھی کچھ قرض ہے مجھ پر سبھی کا ابھی کچھ اور خوشیاں بانٹنی ہیں ابھی کچھ قہقہوں کو نغمگی خیرات کرنی ہے گہر کرنا ہے لفظوں کو زمین حرف و معنی سے ابھی کچھ خار چننے ہیں خیالوں کو دھنک بننا ہے شاید نئے خوابوں کو ...

مزید پڑھیے

یوم خواتین

آج بھی کوئی کہیں گوش بر آواز نہ تھا آج بھی چاروں طرف لوگ تھے اندھے بہرے آج بھی میری ہر اک سوچ پہ بیٹھے پہرے آج بھی تم مری ہر سانس کے مالک ٹھہرے میرا گم نام سا کھویا سا یہ بے چین وجود ایک پہچان کا صدیوں سے جو دیوانہ رہا آج بھی اپنے سے بیگانہ رہا اور جیا بھی تو جیا بن کے کسی کا ...

مزید پڑھیے

شکست

افق کی منڈیروں پہ دن کا تھکا ماندہ سورج کھڑا تھا اور اس کا بدن سرخ شالوں کی زد میں جھلستا رہا وہ چپ چاپ گم سم خلاؤں کو تکتا رہا ایک گونگا تماشائی بن کر یکایک خلاؤں کی پہنائیوں میں پس پردۂ شب سے اک چیخ ابھری وہ مغرور سورج جو اپنی تکمیلی شعاعوں کے زہریلے کانٹوں سے معصوم دھرتی کا ...

مزید پڑھیے

سننا چاہو تو

سنو تاکہ ان سنی دوسرے کو تکلیف نہ دے جو تمہارے لفظ ہیں انہیں قبول کر لو جیسے لفظ ایک بہتے رشتے میں بندھے ہوتے ہیں ویسے یہ معروض کی سچائیوں کے گرد مہین دھاگے لپیٹ دیتے ہیں ان کہی سے نکلتے ہیں تو گہرائی میں ان سنی کا دکھ ہمکتا ہے خواب پر صحراؤں کا تسلط ہے شور مچاتے ہیں سونے نہیں ...

مزید پڑھیے

غلطی

اوپر سے بہہ کر آنے والی لہریں میرے مرکز کو بھینچ رہی ہیں گلابی رنگ جل کر سیاہ ہو رہا ہے آنکھ کے آئینے میں امید کی جھلک ہمیشہ ابھرتی رہتی ہے وہ وقت آ چکا آس پاس چلتے پھرتے وجود طاقت ور لہروں میں ڈھل گئے ہیں ذمہ داری دی جاتی ہے غیر ذمہ داری سے اور کچھ لوگ قہقہے لگانے پر خود کو مامور ...

مزید پڑھیے

تمہارا شکریہ

وہ لمحے جب وجود میں بارود بھر جاتا ہے سوچ کہتی ہے کہ ہر شے فنا ہو سکتی ہے محض زبان سے پھسلے لفظ اندر کے خالی پن کو مسلط کر دیں ایسا خالی پن قبول کرنے میں دشواری ہوتی ہے تمہارا شکریہ درانتی کی نوک دیر تک کچی زمین کو کریدتی رہی اور اس میں سے خون نہ نکلا تہوں کے نیچے فصلیں اگتی رہی ہوں ...

مزید پڑھیے

مجھ جیسا

دھند بولتی ہے ایک طویل بے زار کن خاموشی میں خاموشی جو نہیں دیکھ سکتی اس پار جہاں کچھ ہے اس دھند کے رشتے سے ہر کوئی وہاں جانا چاہتا ہے کوئی لڑکی یا اس کے رشتے سے کوئی اور جو ہاتھ تھام کر لے جائے دھند کے لامتناہی سلسلوں کے پار وہ دھند جس کے پیچھے خون کا دریا بہتا ہے وہ جس کے پیچھے ...

مزید پڑھیے

گڑھوں والی لڑکی

جب وہ بولتی ہے جب چپ ہو جاتی ہے اور جب ہنستی ہے اور روتی ہے جب اس کے رخساروں میں ہونٹوں کے کناروں پر ابروؤں کے پاس چاہ ذقن کی طرح ڈمپل پڑتے ہیں اور مزید ڈمپل پڑتے ہیں جب وہ قہقہہ لگاتی ہے اور جب گانے لگتی ہے خوش ہوتے وقت بھی جس طرح دکھ میں آنسو بہاتے ہوئے جو گال کے گڑھے میں جا گرتے ...

مزید پڑھیے

درد کی مالا

ہمارے درمیاں اے دوست یہ جو استعارہ پھول کا مہکا رہا بندھن میں ہم کو باندھ کر کھلتا رہا اک عمر میرا دل بہلتا ہی نہیں اب ان کی باتوں سے کبھی تم خوشبوؤں کا ذکر کرتے ہو تو میری ناک میں تیزاب کی بو پھیل جاتی ہے تمہاری شاعری بار گراں اب ہے سماعت پر کہ زرخیزی گلوں سے اس میں قائم ہے وہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 295 سے 960