شاعری

نئی امید

کبھی اپنی سخت گرفت پر نگاہ کر کے دیکھو فانوس کی طرح چمکتی اوقیانوس کی طرح لہریں مارتی زندگیاں لے کر خالی چارپائیاں اور خالی ہجوم لوٹا دیتی ہو تمہارے لیے جفتیاں کر کے محنت سے چارہ تیار کرتے ہیں اور کوئی شکایت نہیں کرتے ہمارے مضبوط ہاتھ تمہاری مٹی کھودتے کانپ جاتے ہیں تمہاری ...

مزید پڑھیے

نتیجہ

آخر کار ایک دن مجھے خوشبو اور رنگوں سے بھرے تمہارے پہلو سے اٹھ کر وہاں جانا پڑ جائے گا جہاں بلند اور دشوار پہاڑوں کی گود میں وہ سب جو مٹی کی مہک والے بستر چھوڑ کر کانٹوں کی طرح اگتے ہیں اور روندنے والوں کو زخمی کر دیتے ہیں ہر لمحے ایک انتظار کی کیفیت میں رہتے ہیں تب ممکن ہے مجھے ...

مزید پڑھیے

ایک لڑکی کی موت

اس سے قبل موت تمہیں ایک قطرہ بنا دے دوسروں کی پلکوں پر اٹک سکنے کی قوت سے لبریز اگر تم پڑھنا چاہو ان شبدوں کو جو ہوا پر رکھے جاتے ہیں کہ ان کی خوشبو قید کی ذلت سے روشناس نہ ہو ان میں اشارہ ہے کہساروں پر بلند ہونے کا جب چھوٹے چھوٹے پتھر لڑھکانے کی کوشش کرتے ہیں نیچے اور تم ان کے سروں ...

مزید پڑھیے

ڈور سانسوں کی

دروازے سے ٹکرا کر اندر آتی ہواؤں میں زندگی تھی اس سے انکار کی قیمت کسی نے نہیں پوچھی بس پھیپھڑوں نے خود کو تقسیم کر دیا میں سانس لینا چاہتا ہوں کھلی فضا میں لیکن بھر چکا ہے زہر میری دعا میں وہ سب مل کر دھکیلتے ہیں مجھے غاروں میں جہاں میرا پتھرایا ہوا بدن میرا خون مانگتا ہے جس میں ...

مزید پڑھیے

جاؤ اب روتے رہو

تم نہیں جانتے اس دھند کا قصہ کیا ہے دھند جس میں کئی زنجیریں ہیں ایک زنجیر کسی پھول کسی شبد کسی طائر کی ایک زنجیر کسی رنگ کسی برق کسی پانی کی زلف و رخسار لب و چشم کی پیشانی کی تم نہیں جانتے اس دھند کا زنجیروں سے رشتہ کیا ہے یہ فسوں کار تماشا کیا ہے! تم نے بس دھند کے اس پار سے تیروں ...

مزید پڑھیے

سمے ہو گیا

پھر مقام رفاقت پہ مدغم ہوئیں سوئیاں دونوں گھڑیال کی رفت و آمد کے چکر میں گھنٹے کی آواز میں میرا دل کھو گیا اپنی ٹک ٹک میں بہتا رہا وقت کتنا سمے ہو گیا! سالہا سال پانی کے چشمے سے گیلے کیے لب عناصر نے جلتے الاؤ پہ ہاتھ اپنے تاپے مظاہر نے سینے کی دھڑکن سے نادید کے رنگ و روغن سے اشیا ...

مزید پڑھیے

اس شاہراہ پر

بہتی آنکھوں نے ہماری شناخت مٹا دی ہے چہرے سے عاری جسم سڑکوں پر لڑھکتا ہے نفرت کرتا ہے پیار کرتا ہے کوئی بھی جذبہ اسے اس کی شناخت نہیں لوٹاتا کانٹے مذاق اڑاتے ہیں ڈانس کرتے ہیں کیا انہیں آنکھوں کے ان سوراخوں میں اتارا جا سکتا ہے جن میں لاوا بہہ کر آتا ہے اور ہر اس راستے کو جلا دیتا ...

مزید پڑھیے

معزز شاعر کی کائنات

تمہارے دل کی سنگ لاخ وادی میں دشوار گزار اور پر پیچ راستوں کے بیچ کہیں کسی مقام پر ایک شکستہ حال جھونپڑی گرم ہوا کے تھپیڑوں سے اپنی زنگ آلود میخوں کے بل پر ویسے ہی پھڑپھڑا رہی ہے جیسے دیے کی جاں بہ لب لو اندھیروں کو شکست دینے کے بعد بجھنے لگتی ہے جن لہروں اور ان سے جنم لینے والی ...

مزید پڑھیے

ایک نظم

درد سے بھرا گلاس ہونٹوں سے لگا کر پیتے پیتے میں نے اس کی شرابی آنکھوں میں جھانکا اور میرا جسم پیاس سے بھر گیا

مزید پڑھیے

غم مت کرنا

ستر سال تمہاری پسلی سے خود کو باندھ کر چلی ہوں کبھی بری ہوں کبھی بھلی ہوں میرے محبوب میں تمہاری نگاہوں کا سہارا لیتے لیتے تھک چکی ہوں تمہاری سانسوں کی ڈور میرے ماس میں رہ گزر بنا کر ہڈیوں کو سرد لہر اوڑھائے قصے سناتے نہیں تھکتی میری پلکیں چلمن بننے سے خوف کھاتی ہیں ایک آواز کہتی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 296 سے 960