شاعری

کہانی جو کھو گئی

میری کہانی رستے میں جانے کہاں پہ کھو گئی جی دل میں بہت شرمندہ ہوں بھول یہ مجھ سے ہو گئی جی میں جب اپنے گھر سے چلی سڑک سڑک اور گلی گلی کہیں مٹھائی رکھی تھی وہیں بڑی سی مکھی تھی مکھی بولی بھن بھن بھن جاؤ نہ تم ٹی وی مجھ بن ناچوں گی اور گاؤں گی اپنے ہنر دکھلاؤں گی میں نے کہا کیا گاؤ ...

مزید پڑھیے

توجہ فرمائیے

ہمیں پل دو پل بہلا دینا کیا مشکل ہے دو چار کھلونے لا دینا کیا مشکل ہے ہم نے جو یہ بات ابو سے کہی ابو نے کہا امی سے کہو ہم نے جو یہ بات امی سے کہی امی نے کہا باجی سے کہو کھٹ سے دو نوٹ بڑھا دینا کیا مشکل ہے الماری بھی بنوائی ہے اتنی بڑی میز بھی آئی ہے لاکٹ قالین گھڑی بندے ہر قیمتی چیز ...

مزید پڑھیے

نطشے نے کہا

وہ سب پرندے جو اڑ کے جاتے ہیں فاصلوں میں کہیں بہت دور فاصلوں میں سو ان کے بارے میں یہ تو سب جانتے ہیں، آخر کہیں کوئی ایک یا دوسری جگہ ایسی آ ہی جاتی ہے، وہ جہاں تھک کے بیٹھ جائیں وہ کوئی مستول یا کوئی بنجر چٹان ہوتی ہے جس کو پا کر وہ سوچتے ہیں کہ یہ بھی کچھ کم نہیں بہت ہے، مگر بھلا ...

مزید پڑھیے

کلفٹن کی سیر-2

کلفٹن پر یہ مچھلی گھر نظر آئے حسیں منظر بہت خوش ہیں یہاں آ کر یہ خوب صورت مچھلیاں پانی میں جیسے تتلیاں کوئی ہے جیسے ونجلی کوئی لگے چمپا کلی کیسے نرالے رنگ ہیں جو دیکھتے ہیں دنگ ہیں ان کے ڈیزائن دیکھیے لہروں پہ جلتے ہیں دیے ہر عیب سے بے شک بری قدرت کی ہے کاری گری

مزید پڑھیے

ریت کا شہر

مجھے اپنے شہر سے پیار ہے نہ سہی اگر مرے شہر میں کوئی کوہ سر بہ فلک نہیں کہیں برف پوش بلندیوں کی جھلک نہیں یہ عظیم بحر جو مرے شہر کے ساتھ ہے مری ذات ہے

مزید پڑھیے

آج کا دن

تاک دھنا دھن آج کا دن کل سے اچھا آج کا دن آج کا دن جو آیا ہے سورج کو بھی لایا ہے چوں چوں کرتی چڑیا نے ننھے منے پنکھ ہلائے اوس کی ننھی بوندوں نے کلیوں کے چہرے چمکائے جاگے سوئے رستوں پر اسکولوں کے بچے آئے الجھی سلجھی گلیوں میں صدا لگاتا ہاکر جائے تاک دھنا دھن آج کا دن

مزید پڑھیے

ننھی منی قوالی

ان کی بھی سنیں ان کی بھی سنیں چھوٹے جو ہوئے سنتے ہی رہیں کچھ بھی نہ کہیں چھوٹے جو ہوئے ہم پر کھلی ہوئی تو سبھی کی زبان ہے یہ مہربان ہے کبھی وہ مہربان ہے آئے کسی سے خوف کسی کا ادب کریں اپنی تو ہر طرح سے مصیبت میں جان ہے ددھیال میں پھوپی ہیں ننھیال میں خالہ ہیں یہ ان سے بھی بڑھ کر ...

مزید پڑھیے

یہ باتیں چھوڑ دو

اجی ہٹاؤ چھوڑو بھی ان باتوں میں کیا رکھا ہے امی نے کہا بس کھیل چکو اور منا منی روٹھ گئے یوں شکل بنائی دونوں نے دل جیسے سچ مچ ٹوٹ گئے باجی نے کہا اس کیاری میں جو پھول تھا کس نے توڑ لیا یہ بات تھی جس پر آپ بہت ناراض ہوئے منہ موڑ لیا بھیا سے ہماری کٹی ہے کیوں کڑوی دوائی لائے ہیں ابو سے ...

مزید پڑھیے

جدائی وطن

آج وہ وقت جدائی مجھے یاد آیا ہے دل افسردہ ہر اک یاد سے بھر آیا ہے غیر ممکن ہے مری آنکھ سے آنسو نہ بہیں ضبط‌ دل اب تو ہر اک حد سے گزر آیا ہے زندگی ہم کو یہ معلوم نہ تھا تیرے لیے اپنی ہنستی ہوئی دنیا کو رلانا ہوگا جن کو دل دیکھ نہ سکتا تھا کبھی افسردہ آج اس دل نے انہیں اشک بہاتے ...

مزید پڑھیے

ببلو کا گیت اسکول جانے سے پہلے

اپنے بڑھتے ہوئے بالوں کو کٹا لوں تو چلوں غسل خانے میں ذرا دھوم مچا لوں تو چلوں اور ایک کیک مزے دار سا کھا لوں تو چلوں ابھی چلتا ہوں ذرا پیاس بجھا لوں تو چلوں رات میں اک بڑا دلچسپ تماشا دیکھا مجھ سے مت پوچھ مرے یار کہ کیا کیا دیکھا ٹھیک کہتے ہو مدھر سا کوئی سپنا دیکھا آنکھ تو مل لوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 294 سے 960