شاعری

داستان غم

ہماری داستان غم کہانی ہوتی جاتی ہے وہی افسردگی پھر جاودانی ہوتی جاتی ہے وہی تصویر درد و یاس ہے پھر زندگی میری وہی آہ و فغاں کی میہمانی ہوتی جاتی ہے وہی میں ہوں وہی خاموش آنسو ہیں وہی آہیں بیاں ہر سانس میں دل کی کہانی ہوتی جاتی ہے یوں ہی خاموش آہیں کہہ رہی ہیں داستان دل یوں ہی راز ...

مزید پڑھیے

آہ بے تاثیر

ابھی ہم آہ بے تاثیر کی تاثیر دیکھیں گے ابھی تقدیر سے الجھی ہوئی تدبیر دیکھیں گے بہت دشوار ہے دامن چھڑا کر یوں نکل جانا قیامت تک وہ میری خاک دامن گیر دیکھیں گے ترے گیسو کے سودائی تری زلفوں کے دیوانے سحر تک خواب میں اڑتی ہوئی زنجیر دیکھیں گے ہمارے سامنے تم ہو تمہارے سامنے ہم ہیں نہ ...

مزید پڑھیے

ترک تعلق

گر تعلق ہی ترک کرنا تھا مجھ سے پھر پیار کیوں کیا تو نے مسکراتی لجاتی آنکھوں سے ایک اقرار کیوں کیا تو نے میں نے کب تیرا پیار مانگا تھا میں نے کب تیری آرزو کی تھی میں تو خاموش تھا فلک کی طرح میں نے کب تیری جستجو کی تھی تو نے خود مسکراتی آنکھوں سے مجھ کو آواز دے کے چونکایا میرے نازک ...

مزید پڑھیے

بچے کی فریاد

اے خدا کاش میں خدا ہوتا اور تو پھر مری جگہ ہوتا تجھ کو کرتا میں ایسے گھر پیدا جس کا گھر ہو نہ جس کے بھائی بہن پیدا کرتے ہی تجھ کو میں تیرے رات کی طرح کالے چہرے پر گہرے چیچک کے داغ پھیلاتا اور آنکھیں بھی چھین لیتا میں لوگ کہتے کہ کوڈیا ہے تو تیرے ہونے سے چھ برس پہلے باپ بھی تیرا ...

مزید پڑھیے

بہار

یوں مرے دل سے کھیلتی ہے بہار جیسے تاروں کی دل نشیں چشمک جس طرح چاند کی حسیں کرنیں نیم شب گوشۂ گلستاں میں پتی پتی پہ ناز سے کھیلیں یوں مرے دل سے کھیلتی ہے بہار جس طرح قرب حسن کا احساس جیسے محبوب کی نگاہ جمیل دل میں آنکھوں کی راہ سے اترے اور ہو جائے روح میں تحلیل یوں مرے دل سے ...

مزید پڑھیے

کشمیری مرغی

پاپا میرے کشمیر سے آئے ساتھ میں اک مرغی بھی لائے نسل بھی اس کی کشمیری ہے روپ ادا بھی کشمیری ہے کتنی سندر کتنی پیاری پر ہیں اس کے یا گل کاری قوس و قزح سے رنگ ہیں اس کے اودے پیلے لال اور نیلے انڈے دیتی ہے روزانہ خوب ہی کھاتی ہے یہ دانہ صحن میں دن بھر گھومتی ہے یہ ہر شے اچھی چومتی ہے ...

مزید پڑھیے

سورج کی بیماری

تو آؤ چلیں اب گھر چلتے ہیں دن کی تھکن اب شام ہوئی ہے سورج کو اپنے گہوارے میں سو جانے دو وہ بہت تھکا ہوا ہے سورج کی بیماری نے ہم سب کو تھکا دیا ہے کیا جانے کل کیا ہوگا کل تو اندیشے کو کہتے ہیں دیکھو ہم کتنے اندیشوں سے گزرے ہیں اور زندہ ہیں اس نے کہا تھا زندہ رہو اٹھارہ برس اٹھارہ برس ...

مزید پڑھیے

نقطہ

ہر طرف سے انفرادی جبر کی یلغار ہے کن محاذوں پر لڑے تنہا دفاعی آدمی میں سمٹتا جا رہا ہوں ایک نقطہ کی طرح میرے اندر مر رہا ہے اجتماعی آدمی

مزید پڑھیے

جن

بچپن میں بوڑھوں سے سنا تھا کچھ لوگوں پر جن آتے ہیں جو ان کو بھگائے پھرتے ہیں وہ جو کچھ بھی کہتے ہیں اپنے آپ نہیں کہتے ہیں جن ان سے کہلاتے ہیں اب اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کچھ لوگوں پر لفظ آتے ہیں جو ان کو بھگائے پھرتے ہیں وہ جو کچھ بھی کہتے ہیں اپنے آپ نہیں کہتے ہیں لفظ ان سے کہلاتے ...

مزید پڑھیے

میرا چہرہ

ایک قیافے کے ماہر نے مجھ سے کہا گہری چالیں چلنا اور دنیا کو دھوکے میں رکھنا آسان نہیں ہے لیکن تو چاہے تو یہ کر سکتا ہے تیرا چہرہ اک ہنس مکھ احمق کا چہرہ ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 227 سے 960