شاعری

زندگی

وہی فضا وہی چہرے خموش نرسنگ ہوم میں سو رہا تھا کہ کھڑکی کے پاس پیپل سے نسائی نقرئی آواز ہولے ہولے اٹھی بڑی اداؤں سے میرے قریب آنے لگی سحر قریب تھی سورج نکلنے والا تھا میں چاہتا تھا کہ اس صوت نقرئی کو چھوؤں مگر وہ لوٹ گئی پائلوں کے سرگم میں دمک رہا تھا سر آسماں حسیں سورج گھنیرے ...

مزید پڑھیے

آگ

اب قلم میں ایک رنگیں عطر بھر لو تم حسیں پھولوں کے شاعر ہو کوئی ظالم نہ کہہ دے شعلہ احساس کے کاغذ پہ کچھ لکھنے چلا تھا اور کاغذ پہلے ہی اک راکھ سا تھا بات واضح ہی نہیں ہے شاعر گل دائرے سب مصلحت بینی کے اب موہوم سے ہیں بات کھل کر کہہ نہ پائے تم تو بس زیرو رہوگے اب قلم میں آگ بھر ...

مزید پڑھیے

کاش

کاش میں ایک بانسری ہوتا اپنے ہونٹوں پہ لے کے کوئی مجھے میرے دل کی چھپی ہوئی آواز ساری دنیا میں منتشر کرتا اور پھر گیت میں بدل جاتے میری معصوم زندگی کے خواب کاش ہوتا میں عرش کا مہتاب اپنی ہی روشنی کے زینے سے ہولے ہولے زمیں پہ آ جاتا پھر زمیں کی بہار میں کھو کر کسی بچے کے ساتھ مل ...

مزید پڑھیے

اک جگنو کے ساتھ

بھاگ رہی ہے چنچل لڑکی اک جگنو کے ساتھ ڈالی ڈالی پھیلاتی ہے اپنے کومل ہاتھ دیکھ رہے ہیں پھول اور پودے باغ کے یہ معصوم تماشے چنچل لڑکی یہ کیا جانے کھلے ہیں قدرت کے آئینے بھاگ رہی ہے چنچل لڑکی اک جگنو کے ساتھ ڈالی ڈالی پھیلاتی ہے اپنے کومل ہاتھ ڈالے نین میں کاجل لڑکی اپنی دھن میں بے ...

مزید پڑھیے

عوام

کھڑے ہو آج جس تہذیب کے اونچے منارے پر سجایا ہے اسے شاید ہمیں بدنام لوگوں نے جدھر سے چل کے تم پہنچے ہو ان زریں منازل تک دکھائی ہے تمہیں وہ راہ ہم ناکام لوگوں نے تمہاری بزم ذہن و فکر کی آرائشیں کی ہیں ہم ایسے ہی اسیر گل اسیر جام لوگوں نے تمہارے جادۂ گل رنگ کی یہ احمریں شمعیں جلائی ...

مزید پڑھیے

دھرتی امر ہے

ذرا آہستہ بول آہستہ دھرتی سہم جائے گی یہ دھرتی پھول اور کلیوں کی سندر سج ہے ناداں گرج کر بولنے والوں سے کلیاں روٹھ جاتی ہیں ذرا آہستہ چل آہستہ دھرتی ماں کا ہردے ہے اسی ہردے میں تیرے واسطے بھی پیار ہے ناداں برا ہوتا ہے جب دھرتی کسی سے تنگ آتی ہے تری آواز جیسے بڑھ رہے ہوں جنگ کے ...

مزید پڑھیے

مجھے وہ نظم لکھنی ہے

مجھے وہ نظم لکھنی ہے کہ ہر انداز موسیقی سے دہرایا کروں جس کو مگر اکتا نہ جاؤں بار بار اپنے ہی گانے سے یوں ہی بس زندگی کے ساز پر گایا کروں جس کو مگر گھبرا نہ جاؤں زندگانی کے فسانے سے مجھے وہ نظم لکھنی ہے کہ جس میں زہرہ و ناہید سب رقصاں تو ہوں لیکن کبھی مزدور کے اندوہ گیں رخسار بھی ...

مزید پڑھیے

مزدور لڑکی

وہ اک مزدور لڑکی ہے بہت آسان ہے میرے لیے اس کو منا لینا ذرا آراستہ ہو لوں مرا آئینہ کہتا ہے کسی سب سے بڑے بت ساز کا شہکار ہوں گویا میں شہروں کے تبسم پاش نظاروں کا پالا ہوں میں پروردہ ہوں باروں قہوہ خانوں کی فضاؤں کا میں جب شہروں کی رنگیں تتلیوں کو چھیڑ لیتا ہوں میں جب آراستہ خلوت ...

مزید پڑھیے

بہت دنوں کی بات ہے۔۔۔۔۔

بہت دنوں کی بات ہے فضا کو یاد بھی نہیں یہ بات آج کی نہیں بہت دنوں کی بات ہے شباب پر بہار تھی فضا بھی خوش گوار تھی نہ جانے کیوں مچل پڑا میں اپنے گھر سے چل پڑا کسی نے مجھ کو روک کر تری ادا سے ٹوک کر کہا تھا لوٹ آئیے مری قسم نہ جائیے نہ جائیے نہ جائیے مجھے مگر خبر نہ تھی ماحول پر نظر ...

مزید پڑھیے

مجبوریاں

مجھے نفرت نہیں ہے عشقیہ اشعار سے لیکن ابھی ان کو غلام آباد میں میں گا نہیں سکتا مجھے نفرت نہیں ہے حسن جنت زار سے لیکن ابھی دوزخ میں اس جنت سے دل بہلا نہیں سکتا مجھے نفرت نہیں پازیب کی جھنکار سے لیکن ابھی تاب نشاط رقص محفل لا نہیں سکتا ابھی ہندوستاں کو آتشیں نغمے سنانے دو ابھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 226 سے 960