شاعری

الجھی سانسیں

اس نے لکھا تھا کسی کو مرے بچے خاک زرگر میں چھپے ذرے ہیں جن کو میں جاں کے عوض سونپ رہی ہوں تم کو مجھ کو کچھ زندہ کھلونوں سے محبت تھی جیسے عینی کسی ہمسایہ سہیلی کے کھلونوں کو اٹھا لاتی ہے اور سو جاتی ہے سینہ سے لگا کر ان کو داغ جو روح میں جسم پہ ہوتے تو مجھے لوگ اک جلتا ہوا شہر ...

مزید پڑھیے

کھیل

شام کو دفتر کے بعد واپسی پر گھر کی سمت میں نے دیکھا میرے بچے کھیل میں مصروف ہیں اتنے سنجیدہ کہ جیسے کھیل ہی ہو زندگی کھیل ہی میں سارے غم ہوں کھیل ہی ساری خوشی اے خدا! میرے فن میں دے مجھے تو میرے بچوں کی طرح کھیل کی سنجیدگی

مزید پڑھیے

میرا دشمن

اس نے جو ضرب لگائی مجھے بھرپور لگی میں نے جب وار کیا اس کی جگہ خالی تھی تھک گیا چور ہوا ہار گیا وہ مرا دشمن عیار مجھے مار گیا آخری وقت میں دیکھا تو وہ دشمن میرا اور تو کچھ بھی نہ تھا میری ہی پرچھائیں تھا

مزید پڑھیے

اب

وہ ایک لمحہ جو ''اب'' نہیں ہے گزر چکا ہے وہ ایک لمحہ جو ''اب'' نہیں ہے ہے آنے والا گزر چکا ہے جو ایک لمحہ وہ میں نہیں ہوں ہے آنے والا جو ایک لمحہ وہ تو نہیں ہے کہ ایک لمحہ ہیں دونوں ہم تم وہ ایک لمحہ جو صرف ''اب'' ہے یہی ازل ہے یہی ابد ہے

مزید پڑھیے

دیا

مرے چاروں طرف ہیں میرے سائے خود اپنی تیرگی میں گھر گیا ہوں دیے کی طرح آدھی رات کو میں کسی خالی مکاں میں جل رہا ہوں

مزید پڑھیے

راکھ

مرے دونوں ہاتھوں میں کچھ بھی نہیں راکھ ہے امیدوں کی جو آخری ساعتوں تک دھواں دے رہی تھیں اور آنسو..... لہو... اور بچپن کے دن یہ سب راکھ ہیں میں اس راکھ کو اپنے چہرے پہ مل کے کھڑا ہوں

مزید پڑھیے

میں اور تم

میں میں ہوں تم تم ہو اور دونوں کے درد جدا ہیں تم سچائی کے دیوانے تھے جو مجھ میں نہیں تھی میں جھوٹا اس سچ سے ڈرتا تھا جو روحوں کو پتھر کر دیتا ہے اب دونوں جھوٹے اور سچے اپنے اپنے جھوٹ اور سچ پر نادم ہیں

مزید پڑھیے

ایک دروازے پر

میرے گھر کے دروازے پر۔۔۔۔ دستک دینے والے نے پوچھا!! اندر کون ہے میں ہوں میں ہوں میں ہوں چند صدائیں آئیں یہ سب جھوٹے ہیں میں تو شہر سے باہر گیا ہوا ہوں میرے پیچھے! گھر کے نوکر ''میں'' بن بیٹھے ہیں

مزید پڑھیے

دکھ کی بات

وہ دن بھی کیسے دن تھے جب تیری پلکوں کے سائے شام کی گہری اداسی بن کے مری روح میں جادو جگاتے تھے مری آنکھوں میں نیندیں تیرے بالوں کی طرح ایسے سبک سے جال بنتی تھیں کہ جو حلقہ بہ حلقہ خواب اندر خواب انجانے زمانوں کی گریزاں ساعتوں پر ابر کی صورت برستے تھے بدلتے موسموں کی طرح تیرے جسم ...

مزید پڑھیے

سفر

کئی سر زمینیں صدا دے رہی ہیں کہ آؤ کئی شہر میرے تعاقب میں ہیں چیختے ہیں نہ جاؤ کئی گھر لب حال سے کہہ رہے ہیں کہ جب سے گئے ہو ہمیں ایک ویران تنہائی نے ڈس لیا ہے پلٹ آؤ پھر ہم کو آباد کر دو وہ سب گھر وہ سب شہر ۔۔۔۔سب سر زمینیں محبت کی چھوڑی ہوئی رہ گزر بن گئی ہیں کبھی منزلیں تھیں مگر آج ...

مزید پڑھیے
صفحہ 228 سے 960