الجھی سانسیں
اس نے لکھا تھا کسی کو مرے بچے خاک زرگر میں چھپے ذرے ہیں جن کو میں جاں کے عوض سونپ رہی ہوں تم کو مجھ کو کچھ زندہ کھلونوں سے محبت تھی جیسے عینی کسی ہمسایہ سہیلی کے کھلونوں کو اٹھا لاتی ہے اور سو جاتی ہے سینہ سے لگا کر ان کو داغ جو روح میں جسم پہ ہوتے تو مجھے لوگ اک جلتا ہوا شہر ...