شاعری

جب شام شہر میں آتی ہے

جب شام شہر میں آتی ہے میں اس کو گھر لے آتا ہوں اور بیتے دنوں کی یادوں سے اپنے من کو بہلاتا ہوں ان یادوں میں کوئی اپنا سا چہرہ یہ مجھ سے کہتا ہے کیا بات ہے ہر پل دل تیرا کیوں کھویا کھویا رہتا ہے پھر پتھر کی دیواروں پر کچھ سائے سے لہراتے ہیں اور عجب طرح سے ہنس ہنس کر جانے کیوں مجھے ...

مزید پڑھیے

ستارۂ لرزاں

ابھی تو یوں مری پلکوں پہ جھلملاتا ہے بکھر نہ جائے کہیں ٹوٹ کر یہ دامن میں یہی خیال مجھے بار بار آتا ہے بڑا سکوں بڑی عافیت ہے پلکوں کو حیات ان میں سمٹ آئی ہے زمانے کی خدا رکھے مرے ان در آب داروں کو مژہ پہ ہے مری شبنم بھی اور شرارہ بھی غموں کی بزم کا ہے اک حسین گلدستہ افق کے پار ...

مزید پڑھیے

پچھلے پہر کی رات

پچھلے پہر کی رات عجب حادثہ ہوا سونے سے پہلے چاند ہی بانہوں کو کھول کر جھک کر زمیں پہ آ گیا قدموں کو چھو لیا انگلی پکڑ کے ساتھ میں اپنے وہ لے گیا پہلے تو دیر تک مجھے وہ دیکھتا رہا پہلو میں رکھ کے سر مرے پھر سسکیاں بھریں پھر یوں ہوا کہ ٹوٹ کے رونے لگا تھا وہ شاید کسی کے ہجر کا مارا ہوا ...

مزید پڑھیے

بند حویلی

ایک حویلی بند پڑی تھی جانے کب سے بند پڑی تھی جانے کب تک بند رہے گی اس کے سارے دروازوں پر بٹوارے کے قفل پڑے تھے سناٹے کا شور اٹھائے ویرانی سی گونج رہی تھی بیچ حویلی کے آنگن کے بوڑھے برگد کی شاخوں پر خالی جھولا جھول رہا تھا دور افق پہ خوشبو بیٹھی ٹوٹے برتن جوڑ رہی تھی گھر کی ساری ...

مزید پڑھیے

آوارہ

کوئی یاد ایسی نہیں جو مجھے راہ چلتے ہوئے روک لے میرا دامن پکڑے مرے پاؤں میں ایک زنجیر سی ڈال دے کوئی بھی ایسا بیتا ہوا پل نہیں مست جھونکے کے مانند جو گنگناتا ہوا دور سے آئے ویران آنکھوں سے لپٹے کسی بھولی بسری ہوئی بات کا گیت گائے مرے سامنے ایک پھیلا ہوا جال ہے راستوں کا قطاریں ...

مزید پڑھیے

پا بہ گل

اک بھکاری کی مانند اک پیڑ ویران سے راستے پر کھڑا ہے کوئی بھولا بھٹکا مسافر جو گزرے کبھی ایک پل کو رکے نرم چھانو میں دم لے ذرا اور چلتا بنے رہ گزر پر وہ بے آسرا پیڑ چپ چاپ تکتا رہے اپنے دامن کو پھیلائے ہر جانے والے مسافر کو شاخیں پکاریں مگر کون آئے

مزید پڑھیے

خواب کا درخت

تجھے لوٹا رہا ہوں زندگی کا ذرہ ذرہ عمر کی شاخوں سے جھڑتے پھول سوکھے ہاتھ مرجھائی رگیں مدتوں سے میں نے تیرے آتے جاتے موسموں کے رنگ پہنے بادلوں کا رس پیا روشن ہوائیں جسم نہلاتی رہیں میرے خوابوں کی جڑوں کا تیرے ٹھنڈے زرد سینے سے کوئی رشتہ نہ تھا

مزید پڑھیے

امید

یہاں سے آگے اداس جنگل کا راستہ ہے یہاں سے تم لوٹ جاؤ پلٹ کے دیکھو وہ جاگتا شہر رنگ میں تیرتے ہوئے کھڑکیوں کے شیشے نشے میں ڈوبی ہوئی صدائیں خوشی سے بھرپور قہقہے وہاں منڈیروں پہ چاند پونم کا اپنی ٹھوڑی ٹکائے شفقت سے ہنس رہا ہے تم اس اندھیرے اداس رستے پہ کیوں میرے ساتھ آ رہی ہو میں ...

مزید پڑھیے

شام

شام ہے لمبی گلیوں میں اونچے مکانوں کی دیوار پر پھیلتے سائے ہیں دور افق پر سیہ رنگ بادل کے پیچھے سلگتی ہوئی دھوپ ہے ایسے ہی تیرے جیون کا ڈھلتا ہوا روپ ہے اس ہوا میں ترے درد کا گیت ہے ان درختوں کے گرتے ہوئے آنسوؤں میں کسی اور کا غم نہیں ایک تیرے سوا کوئی ماتم نہیں ایک لمحے میں یہ ...

مزید پڑھیے

گیا سال

گیا سال جاتے ہوئے میری دہلیز پر راکھ کا ڈھیر جھلسے ہوئے جسم ٹوٹے ہوئے عضو ستمبر کی بربادیوں پہ لکھے مرثیوں اور اخبار کی سرخیوں میں تراشوں میں لپٹی ہوئی زرد معصوم لاشیں ٹھٹھرتے ہوئے سرد سورج کی پہلی کرن میں بندھی ورلڈ آرڈر کی مٹتی ہوئی دستاویزوں کے انبار کو چھوڑ کر جا چکا ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 207 سے 960