شہر اور زنجیر
درد کی رات پھر آ گئی میرے پاؤں کی زنجیر پھر جانے مجھ کو کہاں لے چلے گی کبھی شہر کی نیم روشن سی ویران گلیاں خمیدہ سی دیوار کے سائے سائے میں پاؤں میں کنکر چبھوتا چلوں گا کبھی چوڑی چکی سی بل کھاتی سڑکوں کی ہنستی ہوئی رونقوں میں سلگتی ہوئی خوشبوؤں کی جنوں خیز لہروں کے ریلے میں بے بس ...