شاعری

شہر اور زنجیر

درد کی رات پھر آ گئی میرے پاؤں کی زنجیر پھر جانے مجھ کو کہاں لے چلے گی کبھی شہر کی نیم روشن سی ویران گلیاں خمیدہ سی دیوار کے سائے سائے میں پاؤں میں کنکر چبھوتا چلوں گا کبھی چوڑی چکی سی بل کھاتی سڑکوں کی ہنستی ہوئی رونقوں میں سلگتی ہوئی خوشبوؤں کی جنوں خیز لہروں کے ریلے میں بے بس ...

مزید پڑھیے

ایک لڑکی

من کی چھوٹی سی دنیا میں آشاؤں کا ایک میلا سا ہے اس کی نس نس میں اک آگ سی کروٹیں لے رہی ہے خیالوں میں سپنے سنہرے بسے ہیں ذرا کوئی اس سے پر اتنا تو کہہ دے کہ اے شوخ لڑکی تیرے بالوں میں گجرے کی خوشبو بڑی مست میٹھی سی ہے تیرے ہونٹوں پہ امرت کی دھاریں ہیں تو اپنی آنکھوں میں کاجل سجائے ...

مزید پڑھیے

خواہش کا شور

میں اس نگر کی تلاش میں ہوں جہاں پہ ہر شام چاند کی گود سے فضاؤں میں پھول اتریں ڈگر ڈگر کی اداس خوشبو دلوں کو میٹھا سا درد بخشے نشے میں کھوئی سی مست سانسوں میں خواہشوں کا اداس دھیما سا شور آنکھوں میں آرزو کی کتھا کہانی لرزتے آنسو خموش معصوم دھڑکنوں کی زبان کھولیں بہار سے آنچلوں کے ...

مزید پڑھیے

خوشبو کا بدن

فرش بکھرا ہوا اس کا لباس رات کی ہر ایک کروٹ اس کی بانہوں چھاتیوں اس کی کمر کی سلوٹوں میں اب بھی جیتی جاگتی ہے سرسراتی سانس لیتی ہے یہاں ایک پاگل سرخ خوشبو کا لباس میری تنہائی کو پھر سے ڈھانپتا ہے

مزید پڑھیے

سوالوں کی زنجیر

بول اے میری کتاب تیرا چہرہ چومتا ہوں تیرے ماتھے کے سکوں میں ڈھونڈھتا ہوں آج پھر قسمت کا نقش کھولتا ہوں کانپتے ہاتھوں سے صحراؤں کا دروازہ پرانا جن کی اجلی ریت میں اگتے ہوئے موتی ہزاروں چاند تارے آفتاب مدتوں سے ایک لمحے کے سکوں میں کھو گئے ٹھہرے ہوئے ہیں ایک انگلی کے اشارے کے ...

مزید پڑھیے

بیمار لڑکی

شام کی گنگناتی ہواؤ مجھے ساتھ اپنے اڑاتے ہوئے لے چلو وہ جہاں اونچے اونچے درختوں کی غم ناک سی چھانو ہے چاند تاروں کے رستوں سے آگے مرا گاؤں ہے میرا گھر سونا گھر اپنے بازو بڑھائے مرا راستہ تک رہا ہے کوئی اجنبی سی صدا میرے کانوں میں آتی ہے مجھ کو بلاتی ہے جانے کہاں اونچے اونچے درختوں ...

مزید پڑھیے

سانس کی لکیریں

یہ ہوا کا کھیل ہے میں بھی نہیں تو بھی نہیں ہے شام کے رستے پہ اڑتی دھول کے خاکے ہیں ہم سانس الجھی سی لکیریں رنگ آوازوں کے دیواروں پہ مٹی کے پرانے نقش ہیں سرد سہ پہروں میں جلدی جلدی چلتی دھوپ کی طرح رواں ہیں ہونٹ اور یہ ہاتھ سارے بے نشاں ہیں شام کی دہلیز سے آگے پرانا سا کوئی گھر ...

مزید پڑھیے

مصور

لکیریں زندگی کی الجھنیں بھی ہیں لکیریں مست دھارے کا سکوں بھی ہیں لکیریں بھاگتے اور شور کرتے دن کا ہنگامہ لکیریں ریتیلے ساحل کی بھیگی رات کی ناگن کا سایہ بھی کبھی رنگوں کی آوازوں میں ہے اونچی منڈیروں کے عقب سے جھانکنے والے سنہرے چاند کا نغمہ نئی رت کونپلوں اور پتیوں پھولوں کی ...

مزید پڑھیے

اس کے بعد

پرانے گھر میں کوئی رہے کیا ہر ایک شے سے تمہاری بانہیں لپٹ رہی ہیں فضا میں اب تک تمہارے ملبوس اور بدن کی نشیلی خوشبو رچی ہوئی ہے ہر ایک گوشے میں ہلکی ہلکی تمہاری آواز تیرتی ہے خموش ویران آئینے میں تمہاری آنکھیں ہر آنے والے کو روکتی ہیں اداس گھر میں جو کوئی آئے تمہارے سانسوں کا شور ...

مزید پڑھیے

خوشبو کا لباس

ہر طرف بکھرا ہوا اس کا بدن رات کی ہر ایک کروٹ اس کی بانہوں، چھاتیوں اس کی کمر کی سلوٹوں میں اب بھی جیتی جاگتی ہے سرسراتی، سانس لیتی ہے یہاں اور ایک پاگل سرخ خوشبو کا لباس میری تنہائی کو پھر سے ڈھانپتا ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 208 سے 960