شاعری

وہ پل

اگر وہ پل مجھے اک بار مل جائے تو میں پوچھوں کہ یہ سودا مرے سر میں سمایا کس لئے تو نے یہ درد لا دوا دل میں جگایا کس لئے تو نے خرد ادراک عقل‌ و فہم سب بیگار ہوں جیسے فراست دور بینی آگہی بے کار ہوں جیسے حوالے استعارے مشورے دشوار ہوں جیسے دلائل فلسفے منطق ذہن پر بار ہوں جیسے بصیرت ...

مزید پڑھیے

رخش عمر

بیٹھا تھا ایک روز میں آنگن کی دھوپ میں عالم تمام حلقۂ دام خیال تھا سرگوشیوں میں وقت سناتا تھا بار بار قصے قدیم قیصر و کسریٰ کی شان کے کرتا تھا ورق ورق ہر اک داستان کے میں نے کہا کہ ہمدم و ہمراز و دیدہ ور ما قصۂ سکندر و دارا نہ خواندہ ایم کچھ ذکر ہو صبا کا گلوں کا شباب کا ساغر کا ...

مزید پڑھیے

سیمیا

تمہاری بابت میں سوچتا ہوں تو ایسا لگتا ہے لفظ سارے بدن دریدہ و سر بریدہ بیان و اظہار کے سہارے یہ لفظ سارے میرے تخیل کی بارگاہ سخن میں جیسے قطار اندر قطار محجوب پا پیادہ کھڑے ہوئے ہیں تمہیں جو سوچوں تو لفظ سوچوں جو لفظ سوچوں تو ایسے پیکر کا ترجماں کوئی لفظ سوچوں جو عکس افگن ہو ...

مزید پڑھیے

ہوا کے کان میں کہنا اسے بکھرا کے آ جائے

وہ اک بے جان بادل ہے اسے اڑنا تو آتا ہے برس کر اپنی صورت ہو بہ ہو رکھنا نہیں آتا سو جب اس خوبصورت کے بدن کے لمس کی خاطر برستا ہے بھگوتا ہے اسے تسکین سے لبریز کرتا ہے تو اپنی ہی شباہت کا گماں رکھے یقین عجز کر کے اس کے فانی جسم سے رس کر زمیں کا رزق بنتا ہے تو لگتا ہے کسی ان ہونی ساعت ...

مزید پڑھیے

اضطراب

کتنی ہی سوئی دوپہروں میں کتنی ہی جلتی راتوں میں ہر خواب ادھورا مڑ مڑ کر جانے کیا ڈھونڈا کرتا ہے کچھ بھیگے پل بوجھل قدموں کی چاپ لئے حیران پریشاں پوچھتے ہیں یہ موڑ کہاں تک جاتا ہے کچھ بے ہنگم سی تصویریں دھندلی دھندلی بے ڈول سے کچھ لمبے سائے ویران ہمکتی تنہائی امید کے روشن دانوں ...

مزید پڑھیے

لغت کے بے معنی الفاظ

محبت مروت خلوص اور الفت سخاوت کرم بخشش و مہربانی وفا پیار رحم اور ایثار و شفقت فرائض تعاون اور ایماں کے جذبے جو زینت لغت کے ابھی تک بنے ہیں وجود ان کا لیکن عمل میں کہاں ہے سحر کے بھی پر کیف لمحوں میں ڈھونڈھا چمکتی ہوئی دوپہر میں بھی پرکھا وہ سردی کی ٹھٹھری ہوئی رات میں بھی گرجتی ...

مزید پڑھیے

شب پرگی

زمین گول اگر ہے تو گول کیوں ہے یہ میں سوچتی ہوں اسے مستطیل ہونا تھا زمین چاند سے کیوں اس قدر ہے دوری پر اسے قریب بہت ہی قریب ہونا تھا یہ چاند رات کو کیوں نرم روشنی کی کرن بکھیرتا ہے زمیں کے سیاہ چہرے پر اسے تو گرم شعاعیں ہی لے کے آنا تھا سلاخ گرم کی مانند شعلہ رو سورج زمیں پہ آگ ...

مزید پڑھیے

رشتہ اپنے ماضی کا

سیکڑوں سال کا روز اور شب سے ہیں اپنے ماضی کے رشتے جڑے ساحل سندھ پر ایک دخانی کشتی رواں جس میں بیٹھے ہوئے کچھ حسیں نوجواں اک حسیں سا کنارا جو آیا نظر رک گئے لوگ سب اور حیرت سے ہر چیز دیکھا کئے سر اٹھائے کھجوروں کے کچھ پیڑ تھے سرسراتی ہوا پل رہی تھی جو بوئے محبت کی آغوش میں پتھروں ...

مزید پڑھیے

سفر آغاز کرتے ہیں

سفر آغاز کرتے ہیں کسی انجان منزل کا سفر کے راستے میں دور تک صحرا ہی صحرا ہے جہاں سورج نئے دن کی مسافت سے ذرا پہلے وہ اپنی روشنی کا ملگجا سا رنگ پہنے آسماں کے نیلگوں پردوں سے لڑتا ہے تو صحرا کا حسیں منظر کسی پارس کے ٹکڑوں سے فضا رنگین کرتا ہے یکایک وہ حسیں منظر اسی پارس کے ٹکڑوں ...

مزید پڑھیے

اداس چہرے والی خوبصورت لڑکی کے لئے ایک نظم

ریستوران کی رنگا رنگ روشنیوں میں ڈوبا ثمر کے خوبصورت گیت کی مدھم لے میں میرے سامنے بیٹھی اداس چہرے والی اے خوبصورت لڑکی اب پیچھے مڑ کے مت دیکھو دیکھو تو ہمارے سامنے راستہ کتنا خوبصورت ہے ہمارے سروں پر سکھ اور شانتی کا کتنا گہرا بادل ہے اے اداس چہرے والی خوبصورت لڑکی لاؤ اپنا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 206 سے 960