شاعری

کھلی آنکھیں ہیں پر سویا ہوا ہوں

کھلی آنکھیں ہیں پر سویا ہوا ہوں تمہاری یاد میں ڈوبا ہوا ہوں بدن اک دن چھوا تھا تم نے میرا اسی دن سے بہت مہکا ہوا ہوں مجھے پاگل سمجھتی ہے یہ دنیا تصور میں ترے کھویا ہوا ہوں جہاں تم چھوڑ کر مجھ کو گئے تھے اسی رستے پہ میں بیٹھا ہوا ہوں خدا کا ہے کرم سنتوشؔ مجھ پر ہر اک محفل پہ میں ...

مزید پڑھیے

دھوکے نے مجھ کو عشق میں کیا کیا سکھا دیا

دھوکے نے مجھ کو عشق میں کیا کیا سکھا دیا گرنا سکھا دیا ہے سنبھلنا سکھا دیا روتی تھیں زار زار یہ وعدے نے آپ کے آنکھوں کو انتظار بھی کرنا سکھا دیا سورج کی تیز دھوپ بڑا کام کر گئی خوابوں کے دائرے سے نکلنا سکھا دیا اپنوں کی ٹھوکروں نے گرایا تھا بارہا غیروں نے سیدھی راہ پہ چلنا ...

مزید پڑھیے

کیا سبب تھا کس لئے دنیا سے میں ڈرتا رہا

کیا سبب تھا کس لئے دنیا سے میں ڈرتا رہا سر جھکا کر جس نے جو بھی کہہ دیا کرتا رہا سی دیا تھا میرے ہونٹوں کو زمانہ نے مگر ذکر صبح و شام تیرا پھر بھی میں کرتا رہا زندگی کے راستے میں زخم جو مجھ کو ملے چپکے چپکے پیار کے مرہم سے وہ بھرتا رہا جاتے جاتے وہ مجھے کہہ کر گئے تھے اس لیے لمحہ ...

مزید پڑھیے

بھلانے کے لیے راضی تجھے یہ دل نہیں ہوتا

بھلانے کے لیے راضی تجھے یہ دل نہیں ہوتا تبھی تو یاد سے تیری کبھی غافل نہیں ہوتا محبت کو ابھی تک میں نے اپنی راز رکھا ہے تمہارا ذکر یوں مجھ سے سارے محفل نہیں ہوتا تجھے ہی ڈھونڈھتا رہتا میں اپنے آپ میں ہر دم صنم تو میرے جیون میں اگر شامل نہیں ہوتا دغا دینا ہی عادت بن گئی ہو جس کی ...

مزید پڑھیے

پھر زخموں کو دھونے کا دل کرتا ہے

پھر زخموں کو دھونے کا دل کرتا ہے چپکے چپکے رونے کا دل کرتا ہے جب جب بھی میں تجھ کو دیکھوں اے دلبر اپنا سب کچھ کھونے کا دل کرتا ہے ہوتی ہے غم کی یورش جب اس تن پر چادر تان کے سونے کا دل کرتا ہے کالے کالے بادل جھوم کے برسیں تو تجھ کو سنگ بھگونے کا دل کرتا ہے روتے دیکھوں جب سنتوشؔ ...

مزید پڑھیے

یاروں خدا یہ دیکھ کے حیران ہو گیا

یاروں خدا یہ دیکھ کے حیران ہو گیا انساں جسے بنایا تھا حیوان ہو گیا بھیجا تھا اس کو امن کی خاطر جہان میں کیسے خلاف امن کے انسان ہو گیا شیطان کا بھی شرم سے دیکھو جھکا ہے سر انسان خود ہی آج تو شیطان ہو گیا چنتا میں بیٹیوں کی ہر اک باپ ہے یہاں اب کیا بتاؤں میں تو پریشان ہو ...

مزید پڑھیے

دل کے نزدیک سے گزرو تو بتا کر جانا

دل کے نزدیک سے گزرو تو بتا کر جانا یہ بھی چاہت کی ہے اک رسم نبھا کر جانا تم مجھے چھوڑ کے جاتے ہو تو جاؤ لیکن اپنے بھیجے ہوئے خط سارے جلا کر جانا کیا بتاؤں گا جدائی کا سبب لوگوں کو جو حقیقت ہے زمانہ کو بتا کر جانا تاکہ تنہائی سے گھبراؤں تو باتیں کر لوں اپنی تصویر کو کمرے میں لگا ...

مزید پڑھیے

کھیل دل کا عجیب ہوتا ہے

کھیل دل کا عجیب ہوتا ہے کون کس کے قریب ہوتا ہے پیار ملتا کسی کو رسوائی اپنا اپنا نصیب ہوتا ہے کام آئے برے سمے میں جو وہ ہی سچا حبیب ہوتا ہے پیار ہے جس کے پاس وہ انساں اس جہاں میں غریب ہوتا ہے راز جس کو بتا دیا دل کا وہ ہی میرا رقیب ہوتا ہے

مزید پڑھیے

راہ میں جب مے خانہ پڑا ہے

راہ میں جب مے خانہ پڑا ہے دل کو بہت سمجھانا پڑا ہے گلشن گلشن آئے تھے لیکن صحرا صحرا جانا پڑا ہے خیر ہو یا رب ہوش و خرد کی راہ میں پھر مے خانہ پڑا ہے کل جو چھلکتا تھا محفل میں آج سر مے خانہ پڑا ہے کام نہ دوانہ پن آیا ہوش میں پھر سے آنا پڑا ہے گلشن میں روتے ہو سرنؔ کیوں رونے کو ...

مزید پڑھیے

شام جو دیکھی رات سمجھ لی

شام جو دیکھی رات سمجھ لی بنا بتائے بات سمجھ لی میں نے اپنی بات کہی تھی تم نے اپنی بات سمجھ لی ہٹ گیا طوفاں خود ہی پیچھے جب اپنی اوقات سمجھ لی دیکھتی رہ گئی آنکھیں شاید دل نے دل کی بات سمجھ لی کٹ گیا غم کیسے مت پوچھو بس اس کی سوغات سمجھ لی ہو گیا چپ کیوں رونے والا ہجر کی شاید ...

مزید پڑھیے
صفحہ 910 سے 4657